جمعہ, مارچ 30, 2018

فحاشی اب تعلیمی نصاب میں

0 تبصرے
یہ مارچ کا مہینہ ہے اور یہ وہی مہینہ ہے جس میں لاکھوں فرزندان اسلام لاہور میں جمع ہوئے تھے اور یہ عہد کیا تھا کہ مسلمانان برصغیر کے لیے لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ کی بنیاد ہر ایک علیحدہ مملکت قائم کی جائے گی جس میں مسلمان آزادی کے ساتھ اسلام پر عمل پیرا ہو سکیں گے۔
مگر افسوس صد افسوس کے اقبال ؒ نے جس مسلم ریاست کا خواب دیکھا تھا، محمد علی جناحؒ نے جس قران و سنت کے دستور والی مملکت کی بنیاد رکھی تھی، لا الہ الا اللہ کی بنیاد پر بننے والے جس وطن میں پہنچنے کے لیے ہمارے سولہ لاکھ اسلاف شہید ہوئے تھے، جس ارض پاک کے لیے ماؤں کی گودیں اجڑی تھیں، بچوں کی لاشیں کٹی تھیں، بہنوں کی عفتیں اور عصمتیں تار تار ہوئی تھیں مگر سب غموں اور دکھوں پر ایک خوشی غالب تھی کہ پاکستان میں اسلام آزاد ہوگا، مسلم آزاد ہوگا، قران و سنت پر عمل کرنے میں آزادی ہوگی مگر افسوس کہ آج اسی وطن عزیز پاکستان میں سب کچھ آزاد ہے فقط آزاد نہیں ہے تو اسلام آزاد نہیں ہے۔ مسجد، منبر و محراب آزاد نہیں ہیں۔
پاکستان میں سینما آزاد ہے، اسکرین آزاد ہے، بیسیوں دن رات چلنے والے چینلز کہ جن کے لیے ہزاروں شامی مسلمانوں کی شہادت معنی نہیں رکھتی مگر سری دیوی کا مرنا بریکنگ نیوز ہے۔ جن چینلز میں اسلام کی بات نہیں مگر حیا باختگی اور لچر پن کا مکمل سامان ہے۔ مارننگ شوز کے نام پر چلنے والے پروگرام فحاشی کے اڈے ہیں، انٹرٹینمنٹ کے نام پر چلنے والے سبھی چینلز اخلاقی حدود و قیود کی دھجیاں اڑا کر کھے اور سر عام فحاشی اور زنا کے انسٹیوٹس ہیں۔
حالانکہ آئین پاکستان 1973 میں بالکل واضح طور پر طورپر سیکشن 37 میں سماجی انصاف دینے اور سماجی برائیاں ختم کرنے کا ذکر ہے جسکی سب سیکشنز جی اور ایچ میں بڑے واضح انداز میں لکھا گیا ہے کہ پاکستان میں جسم فروشی یا بدکاری‘ جوا کھیلنے‘ نشہ آور دواﺅں کے استعمال اور Obscene یعنی اسلام کی رو سے غیر شرعی بے حیائی قابل حقارت اور بیہودہ لٹریچر اور اشتہاروں اور شراب کے استعمال کی ریاست میں بالکل اجازت نہیں ہو گی۔
مگر کہاں کا آئین اور کہاں کی پاکستانی کی روحانی اسلامی اساس ہمارے نصاب سے قرانی سورتوں کو نکالا گیا ہم خاموش رہے، ہمارے نصاب سے سیرت النبیﷺ اور سیرت صحابہ کو نکالا گیا ہم خاموش رہے اور آج ان کو اتنی ہمت ہوئی کہ ہماری یونیورسٹیز کے نصاب میں ادب کے نام پر غلیظ ترین اور فحش کلام سے بھرپور گندے افسانوں کو شامل کیا گیا ہے جس کو ہماری ہی بہنوں اور بھائیوں کو پڑھایا جاتا ہے۔ سرگودھا یونیورسٹی کے ایم اے اردو کے نصاب میں سعادت حسن منٹو، پریم چند اور دیگر افسانہ نگاروں کے افسانے شامل کیے گئے ہیں اور یہ وہ افسانے ہیں جن کا تذکرہ بھی کوئی شریف اور عزت دار آدمی نہیں کرسکتا کجا یہ کہ ہماری بہنیں بیٹیاں تعلیمی نصاب میں ان کا مطالعہ کریں۔
یاد رکھیں اگر آج ہم اس کے تدارک کے لیے نہ اٹھے تو کل کو یہ مناظر ہمیں اپنوں گھروں میں دیکھنے کو ملیں گے۔ پھر ہم روتے ہیں کہ زینبیں کیوں لٹتی ہیں، بچوں سے زیادتی کے واقعات کیوں رو نما ہوتے ہیں، بنت حوا کی عزت مسلم معاشرے میں تار تار کیوں ہوتی، بیٹیاں خاندانوں کی عزتیں خاک میں ملا کر کورٹ میرج کیوں کرتی ہیں۔
یہ کوئی چھوٹا مسئلہ نہیں ہے یہ ہماری نوجوان نسل اور ہمارے مستقبل کے ساتھ بہت بڑا کھلواڑ ہے، یہ ملک کی نظریاتی اور اسلامی اساس پر بہت بڑا وار ہے جس سبھی طبقات کو زبردست انداز میں محاکمہ کرنا چاہیے۔ جمہوریت کی پرچی جوئے کے پیچھے ہلکان ہوتے ہمارے فقیہان حرم کو اس مسئلے پر توجہ دینی چاہیے۔
اس کے ساتھ عزت مآب چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار جو دودھ اور مرغی پر سوموٹو ایکشن لے کر عوامی مسائل کے حل کے لیے دن رات کوشاں ہیں ان کو بھی چاہیے کہ فوری طور پر اس مسئلے پر ایکشن لیں کیونکہ یہ واضح طور پر آئین پاکستان کی خلاف ورزی ہو رہی۔
ہم چیف جسٹس آف پاکستان، صدر پاکستان اور دیگر مقتدر اداروں اور شخصیات سے گزارش کرتے ہیں کہ پاکستان کے تمام تعلیمی بورڈزاور یونیورسٹییز کے نصابوں کا مکمل طور پر جائزہ لیا جائے اور جہاں کہیں ایسا کوئی بھی نصاب جو اسلام و نظریہ پاکستان سے متصادم ہو، جس میں فحش و بے حیائی ہو اس کو فی الفور تبدیل کیا جائے اس کے ساتھ ساتھ میڈیا پر جاری تشہیر، فلموں ڈراموں وغیرہ میں بڑھتی ہوئی فحاشی و عریانی پر بھی قابو پایا جائے کیونکہ اگر آپ لوگ یہ کام نہیں کرتے تو اس کا مطلب ہے کہ آپ ان گناہ اور فحاشی کے کاموں میں ممدو معاون ثابت ہو رہے ہیں اور اللہ واضح طور پر اپنے قران میں ارشاد فرماتے ہیں
ان الذین یحبون ان تشیع الفاحشۃ فی الذین امنوالھم عذاب الیم فی الدنیا والاخرۃ واللّٰہ یعلم وانتم لا تعلمون
’’جو لوگ اس بات کو پسند کرتے ہیں کہ مومنوں میں بے حیائی پھیلے، ان کو دنیا اور آخرت میں دکھ دینے والا عذاب ہوگا اور خدا جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔( سورۂ النور)

بدھ, مارچ 28, 2018

تندی باد مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب

0 تبصرے
میں آج بھی لکھنا تو کسی اور ٹاپک پر چاہتا تھا مگر پچھلے کچھ عرصے سے دیکھ رہا ہوں کہ تحریکی لوگوں کو کس طرح سے اپنے راستے سے بھٹکایا جاتا ہے، کس طرح سے ان کی منزل کھوٹی کرنے کے لیے ان کے آگے چارہ ڈالا جاتا ہے اور تحریکی لوگ بلا حیل و حجت اس پر الجھنا شروع ہوجاتے ہیں جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ان کا مقصد ، انکا مشن اور انکی تحریک کھوہ کھاتے میں جاگرتی ہے۔ اس پر میں نے سوچا کہ کچھ باتیں اپنے ان جذباتی تحریکی نوجوانوں سے کروں۔
 دوستو کچھ عرصہ قبل جب ہم پاکستان کی ممتاز طلباء تنظیم المحمدیہ اسٹوڈنٹس کا عملی حصہ تھے تو ایک تربیتی نشست میں محترم عبدالرحمن مکی صاحب نے بڑی ہی جامع ترین بات میں تحریکی اور دعوتی زندگی کا ایک زبردست اسلوب سمجھا دیا تھا وہ بھی چند الفاظ میں کہنے لگے کہ پہاڑ سے اترتے ہوئے پانی کو دیکھا ہے نا کہ جب وہ پہاڑ سے نالوں کے ذریعے نیچے اتر رہا ہوتا ہے تو اس کے رستے میں بڑے بڑے پتھر اور بڑی بڑی دو ہیکل چٹانیں آجاتی ہیں اس کا رستہ روک کر کھڑی ہوتی ہیں مگر وہ پانی ان سے الجھتا نہیں ہے کیونکہ اس کی منزل اس چٹان اور پتھر کو پاش پاش کرنا نہیں ہے بلکہ اس کی منزل تو ہزاروں کلومیٹر دور ہوتی ہے لہذا پانی ان چٹانوں اور پتھروں سے پہلو بچاتے ہوئے دائیں اور بائیں سے ہو کر پھر سے آگے کی جانب سفر شروع کردیتا ہے۔ کچھ ہی وقت کے بعد وہی چٹان ، وہی بھاری پتھر اپنی جگہ سے کھسک کر کہیں اور جا گرتا ہے یا ٹکڑے ٹکڑے ہوجاتا ہے۔ وہ فرمانے لگے کہ ایک تحریکی اور داعی نوجوان کی زندگی بھی اسی پانی کی طرح ہی ہونی چاہیے کہ جب کوئی بھی لایعنی اور بلامقصد چیز اس کا راستہ روکے ، اس سے الجھنے کی کوشش کرے تو وہ دائیں یا بائیں سے ہوکر گزر جائے کیونکہ اس کی منزل ان چند فرقہ اور فتنہ پرست مولویوں سے الجھنا نہیں ہے، اس کا مقصد کسی مسلک و فرقہ کے ساتھ لڑائی نہیں ہے بلکہ اس کا مقصد دنیا بھر میں غلبہ اسلام ہے۔
اقبالؒ نے بھی فرمایا نا کہ
پرے ہے چرخ نیلی فام سے منزل مسلماں کی
ستارے جس کی گزرگاہ ہوں وہ کارواں تو
 جن کے مقصد بڑے اور منزلیں اونچی ہوں تو وہ رستے میں موجود ہر بھونکنے والے کتے بلے سے الجھنا شروع نہیں کردیتے کیونکہ کہ اگر وہ ایسا کرنا شروع کر دیں تو ان کے لیے اپنی منزل پر پہنچنا ناممکن ہو جائے گا اور وہ راستے کی رکاوٹوں سے ہی الجھ کر رہ جائے گا۔
 دوستو جانتے ہیں علامہ اقبالؒ اور دیگر شعراء نے شاہین کو اپنی شاعری میں تحریکی اور انقلابی زندگی کا استعارہ کیوں بنایا ہے۔ کبھی آپ شاہین کی پرواز اور اس کے رہن سہن پر غور کریں۔ آپ نے دیکھا ہوگا کہ شاہین ہر گری پڑی اور مردار چیز پر نہیں جھپٹتا بلکہ اپنے لیے نئے چیلنجز تلاش کرتا ہے اور طاقتور شکار پر جھپٹتا ہے۔ یہ تو کوے، گدھ اور چیلیں ہوتی ہیں جو ہرمردار اور گری پڑی چیز پر بیٹھ کر اس کو نوچ رہے ہوتے ہیں تو اسی طرح اپنے آپ کو شاہین بنائیں جس کا مقابلہ دنیائے کفر سے ہو ناکہ ان مردہ سوچ و فکر کے حاملین فرقہ پرست ملاؤں سے۔ 
اسی طرح  شاہین جب اڑتا ہے تو ہوائیں اور بادل اس کی پرواز میں حلل ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں مگر شاہین ان بادلوں اور وہ ہواؤں سے الجھتا نہیں ہے بلکہ وہ ہواؤں اور بادلوں سے اوپر اٹھتا چلا جاتا ہے اور نتیجتا وہ بادلوں اور ہواؤں سے بہت اوپر آرام سے اڑتا رہتا ہے۔
 تو تحریک دعوت و جہاد سے وابستہ لوگو، اسلام و پاکستان کے غلبے کا عزم کرنے والے نوجوانو اپنے آپ کو بلند کرلو کہ تمہاری نظریں صرف تمہارے مقصد و مشن پر ہونی چاہیں ناکہ ہر چھوٹی بڑی رکاوٹ سے الجھ کر اپنی صلاحیتیں اور وقت برباد کرتے رہ جاؤ۔
 اور ان فتوؤں سے، ان تنقیدی باتوں سے، ان بلاوجہ کے اعتراضات سے گھبرایا نہ کرو کیونکہ اقبالؒ نے فرمایا نا کہ
تندی باد مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب
یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کے لیے

منگل, مارچ 27, 2018

سوچ اور فکر کی موت

0 تبصرے
دنیا میں دو جگہیں ایسی ہوتی ہیں جہاں انجان راہی منزل کا نشان کھو بیٹھتے ہیں ان میں سے ایک صحراء ہوتا ہے اور دوسرا سمندر.
ان جگہوں پر انجان راہی تو اپنی منازل کا رستہ بھول بیٹھتے ہی ہیں مگر بعض اوقات ماہر اور کھلاڑی لوگ بھی غفلت کی بناء پر اپنی منزل کے راستے سے ہاتھ دو بیٹھتے ہیں اور پھر صحرائی بھول بھلیوں اور سمندر کی وسعتوں میں چکراتے پھرتے ہیں.
جن لوگوں نے سمندر کے بیچ جا کر اور صحرا کے میلوں اندر جاکر سفر کیے ہیں وہ اس کو بخوبی جان سکتے ہیں کہ ایک جیسے ٹیلے ایک جیسے راستے آپ کے چاروں طرف نظر آ رہے ہوتے ہیں اسی طرح سمندر میں جب آپ کنارے سے چند کوس دور سمندر کے اندر چلے جاتے ہیں تو بلند و بالا اٹھتی لہریں کنارے کو آپ سے اوجھل کردیتی ہیں اور انسان کو چاروں طرف پانی ہی پانی دکھائی دے رہا ہوتا ہے ایسے میں اگر وہ اپنی سمت درست نہ رکھ پائے تو چند سیکنڈز کے اندر اس کا دماغ چکرانا شروع کردیتا ہے.
دونوں صورتوں( سمندر یا صحراء) میں منزل کی سمت کھوجانے کا مطلب بے بسی کی یقینی موت ہوتا ہے.
ایسے ہی کاروبار حیات میں انسان بعض اوقات اپنی غفلتوں یا دوسروں کی ناانصافیوں پر اپنی توجہ منزل سے ہٹاکر رستے میں آنے والی رکاوٹوں اور خوش کن مناظر پر مرکوز کرلیتا ہے تو نتیجے میں وہ اپنی منزل کا نشان کھو بیٹھتا ہے. اس کو ہوش تب آتا ہے جب وہ اپنی منزل مراد سے کوسوں دور بیٹھا چاروں طرف پتھرائی آنکھوں سے دیکھ رہا ہوتا ہے مگر چونکہ اس کی سمت تبدیل ہوچکی ہوتی ہے تو ایسے مقام پر آکر اس کے لیے منزل کی طرف لے جانے والے راستے کا تعین کرنا ناممکن ہوجاتا ہے جس کے نتیجے میں اس کی سوچ اور فکر کی یقینی موت ہوتی ہے، یاسیت اور ناامیدی اس کے دل میں ڈیرے ڈال لیتی ہیں.
ایسے مقام پر آکر انسان تھک ہار کر اپنی منزل، اپنے مقصد سے دستبرداری کا اعلان کرکے اپنے تئیں اپنے آپ کو اس یاسیت سے نکالنے کی فکر میں ہوتا ہے مگر یہ اعلان اس کی سوچ و فکر کی موت کے ساتھ ساتھ اس کے جسم کو بھی دیمک کی طرح کھانا شروع کردیتا ہے.
لہذا نگاہیں اور توجہ اپنی منزل و مقصد پر مرکوز رکھیں راستے میں پڑنے والو پڑاؤ کو اپنی منزل سمجھنے کی غلطی کبھی نہ کریں، راستے میں دکھائی دینے والے خوش کن مناظر پر توجہ مرکوز کرکے اپنی منزل کھوٹی نہ کریں،
راستے میں آنے والی تکالیف اور پریشانیوں سے الجھنے کی بجائے ان کی سائیڈ سے نکلنے کوشش کرتے ہوئے آگے بڑھتے چلے جائیں.
وگرنہ صحرائی بھول بھلیوں میں سوچ اور فکر کی موت کے لیے تیار رہیں.

پیر, مارچ 12, 2018

میری پہچان ۔۔۔۔ میری شناخت

0 تبصرے
23 مارچ انیس سو چالیس کا وہ دن تھا کوئی سندھ سے آیا تھا ، کوئی بلوچستان سے، کوئی شمال سرحدی صوبے سے، کچھ قافلے کشمیر سے چلے تھے، کچھ مردان حر بنگال سے تشریف لائے تھے اور کچھ دیوانے پنجاب کے غرض کے ہندوستان بھر سے آنے والے مسلمانان ہند لاہور منٹو پارک میں آن جمع ہوئے تھے۔ سب کے رنگ و نسل، ذاتیں پاتیں جدا جدا تھے، زبان متفرق تھی عقائد و نظریات میں لاکھ اختلافات تھے مگر زبان پر چند کلمات کی ادائیگی میں ان نفوس کو ایک لڑی میں پرو دیا تھا، ایک زنجیر میں جکڑ دیا تھا، ایک جسد واحد بنا دیا ، وہ کلمات لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ کے کلمات تھے جن کا یہ فیضان تھا کہ لاکھوں کا مجمع ایک رنگ پیش کر رہا تھا اسلام کا رنگ، ایک زبان بول رہا تھا پاکستان کا مطلب کیا لاالہ الا اللہ، ایک عزم کا اعادہ ہو رہا تھا بن رہے گا پاکستان، ایک جہد مسلسل کا عہد ہو رہا تھا کہ لا الہ الا اللہ کی بنیاد پر اس کرہ ارض پر ایک بستی بسائے جائے گی جہاں لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کی حکمرانی ہوگی، جہاں اسلام کا بول بالا ہوگا، جہاں سے اندلس و اقصیٰ کی جانب قافلے نکلیں گے، جہاں سے امت کو ایک ہونے کا پلیٹ فارم دیا جائے گا، جہاں عزت و عصمت محفوظ و مامون ہوگی۔ یہ وہ دن تھا کہ جس دن نے تحریک آزادی کو ایک سمت دی تھی، اس دن مسلمانان ہند کو اپنی منزل دوگام دکھائی دی تھی، جس دن دھڑکتے دلوں اور ڈگمگاتے قدموں کو سکون اور حوصلہ ملا تھا۔ یہ دن پاکستان کی آزادی کی تحریک میں ایک روشن اور واضح سحر تھی جس نے آزادی کے پروانوں کو آزاد فضاؤں میں اللہ اکبر کی صداؤں تلے جینے کی امنگ دی تھی ، ان کی آنکھوں میں آزادیوں کے دیپ جلائے تھے۔ قرارداد لاہور جس کو ہندو پریس نے طنزیہ قرارداد پاکستان لکھا اور بولا جو پاکستان کے قیام کا واضح سبب بنی تھی اسی دن لاہور کے اس منٹو پارک میں پیش کی گئی تھی جس میں واضح طور پر اسلام کے نام پر ایک الگ ریاست کے قیام کا زبردست مطالبہ اور عزم تھا۔ اگلے سات سال تو اس عزم پر ڈٹ جانے کے تھے کہ جس کے انعام میں مسلمانان ہند کو امت مسلمہ کی پاسبانی کی خاطر یہ مملکت خداداد ودیعت کی گئی تھی۔ پھر لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ کی اس بستی کو دیکھنے کی خاطر ہجرتوں کے سفر شروع ہوئے تھے، ہجرتوں کے سفر کیا تھے ظلم و جور اور کرب و بلا کی داستانیں تھیں۔ پچاس لاکھ لوگ فقط ایک لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ بنیاد پر ہر چیز کو ٹھکراتے ہوئے دیوانہ وار اس ارض پاک کی طرف دیوانہ وار بڑھے تھے۔ ان میں سے سولہ لاکھ رستے میں کٹ گئے، قتل ہوگئے، بچوں کو کرپانوں پر اچھالا جاتا تھا، عصمتوں کو باپوں کے سامنے تارتار کیا جاتا تھا، لہو کے دریا بہے تھے ایک نہیں کتنی نسلوں کا مستقبل قربان ہوا لا الہ الا اللہ پر تب یہ قائم پاکستان ہوا لاکھوں ہجرت کی پر نور راہوں میں شہادت پا کر سفر جنت پر روانہ ہوئے تھے اور باقی ماندہ خونی لکیر کو عبور کرتے ارض پاک پر پہنچتے ہی سبز ہلالی کے سائے تلے رب ذوالجلال کے حضور سجدہ شکر کے لیے ریز ہوجاتے تھے۔ پاکستان کے قیام کے ساتھ ہی مشکلوں کا ایک کوہ گراں تھا جو اس نوزائیدہ ریاست پر آن پڑا تھا مگر اللہ کی توفیق کے ساتھ ایک کے ساتھ ایک ذمہ داری سے عہدہ برا ہوتے چلے گئے۔ اس میں انسانوں کا کوئی کمال نہیں تھا یہ لا الہ الا اللہ کی برکت تھی۔ مگر جب تھوڑے مستحکم ہونا شروع ہوئے تو اس لاالہ الا اللہ سے غفلت برتنے لگے، اسلام پس پشت جانے لگا۔ مفادات و مصلحتیں آڑے آنے لگیں، جذبہ جہاد اور غیرت ایمانی قصیہ پارینہ بننے لگی تو ایک ناقابل تلافی نقصان تھا جو اس پاکستان کو اٹھانا پڑا کہ عین عالم شباب میں مشرقی پاکستان چند ہی دنوں میں ہمارے سامنے نفرت کی آگ میں جھلسنے لگا۔ لوگ کہتے ہیں دشمن کی سازشیں تھیں، اپنوں کی غداریاں تھیں، کچھ ستم اپنوں نے ڈھائے تھے ، کچھ نشتر صف اغیار سے آئے تھے اور ہمارا پوربو پاکستان بنگلہ دیش کی شکل میں ہمارے سینے پر ایک گھاؤ کی صورت میں موجود تھا۔ لوگ اس کو کچھ بھی کہیں مگر میں صاف کہتا ہوں کہ یہ تب ایک سب سے بڑی غداری تھی اور وہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ سے غداری تھی، نظریہ پاکستان سے غداری تھی کہ جس نے ہمیں یہ دن دکھایا تھا۔ کیونکہ پاکستان کے مشرقی اور مغربی دونوں حصوں میں نہ رنگ ایک تھا، نہ نسل ایک، نہ زبان ایک، نہ رسم و رواج ایک بس ایک چیز مشترک تھی جس نے ایک لڑی میں پرویا تھا اور لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ اور نطریہ پاکستان تھے جب وہ ہی درمیان سے بھلا دیا گیا تو نفرت کی آگ سے جب تک ہوش آتا سب کچھ جل کر بھسم ہوچکا تھا۔ آج ہم ایک ایسے پاکستان میں کھڑے ہیں جو چہار اطراف سے دشمنوں کے گھیرے میں گھرا ہوا ہے، سازشیں، دشمنیاں، پراکسیز، انتشار و افتراق، مایوسی، فرقہ واریت، لسانیت، صوبائیت، قومیت اور ان جیسے سینکڑوں چیلنجز میں پھنسا ہوا اپنے بقاء کی جنگ لڑ رہا ہے اور ہم سب پاکستانی انہی مسائل میں الجھے ہوئے ہیں۔ یاد رکھو ان سب مسائل سے نکلنے کا ایک راستہ ہے اور وہ ہے کہ میں اپنی شناخت ، اپنی پہچان وہ بنا لوں جو محمد رسول اللہ ﷺ کی تھی، آپﷺ کے صحابہ کی تھی، جو مکہ سے مدینہ جانے والوں کی تھی، جو بدر میں اپنے بھائی بندوں کے سامنے کھڑے لشکر مسلم کی تھی، جو مکہ کو فتح کرنے والوں کی تھی، جو قادسیہ کے میدان کو کفر کا قبرستان بنانے والوں کی تھی، جو کسریٰ و قیصر کے تخت و تاج کو تاراج کرنے والوں کی تھی، جو جبل طارق پر کشتیاں جلانے والوں کی تھی، جو چینی شہزدوں کی گردنوں پر مہر غلامی لگانے والے جرنیل اسلام کی تھی، جو سندھ کو باب الالسلام بنانے والے محمد بن قاسم کی تھی، جو تئیس مارچ کو لاہور میں جمع ہونے والوں کی تھی جو ہجرتوں کی پرنور راہوں پر شہداء کی تھی اور وہ پہچان وہ شناخت لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کی شناخت اور پہچان تھی۔

اتوار, جولائی 16, 2017

"ثبوت و شواہد"

0 تبصرے
کیا دہرا معیار ہے ہمارے معزز حکمران طبقے کا کہ ان کی طرف کوئی انگلی اٹھے تو سب بیک زبان ہوکر ثبوت ثبوت پکارنے لگتے ہیں اور اس کو جمہوریت کے لیے خطرہ خطرہ کی گردان کرنے لگتے ہیں گویا جمہوریت نہ ہوئی پتھروں میں پڑا کوئی آبگینہ ہو یا خطرناک غنڈوں میں پھنسی کوئی "شریف" سی رضیہ ہو۔ مثال کے طور پر حالیہ حالات و واقعات میں سے پانامہ لیکس اوربعد ازاں اس کی بنیاد پر پاکستان کی اشرافیہ کے کالے چہرے عوام پاکستان پر منکشف ہونے اور اس کی بنیاد پر پاکستان کی تاریخ میں غیر معمولی طور پر ہلچل مچادینے والے پاکستان کی سپریم کورٹ میں چلنے والے اس معاملے اور اس پر بننے والی جے آئی ٹی کی تحقیقات اس کی بنیاد پر پیش کی جانے والی پاکستان کے حکمران خاندان کی بدعنوانیوں اور کرپشن پر ثبوت و شواہد پر مبنی تاریخی رپورٹ کو حکمران طبقہ ردی کی گٹھری کہہ کر جٹھلا رہا ہے۔ اور یہ مطالبہ کر رہا ہے کہ ہمارے خلاف کوئی ثبوت ہے تو پیش کرو وگرنہ ہم اقتدار کی کرسی کو چھوڑنے والے نہیں ہیں۔ حکمران خاندان شریفاں کا یہ مطالبہ کوئی آج کا نہیں بلکہ ایک سال قبل جب پانامہ لیکس کی گونج پاکستان تک پہنچی تھی اور اس کی بنیاد پر اپوزیشن کی جماعتوں نے ان لیکس کی بنیاد پر حکمران طبقے پر پریشر بڑھانا شروع کیا تھا تب سے وہ اپنے دفاع کی خاطر یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ ہماری کرپشن اور بدعنوانی پر اگر کوئی ثبوت ہے تو پیش کرو۔ میرا آج کا مسئلہ یہ نہیں کہ میں خاندان شریفاں کی کرپشن کو ثابت کرنے کے لیے دلائل دوں یہ عدالتوں کے کام ہیں ان کو یہ کام کرنے دیا جائے یا میں تحریک انصاف کی اس ملک کی اقتدار کی کرسی پر بیٹھنے کی دیرینہ خواہش کی تکمیل کی خاطر ایڑھی چوٹی کا زور لگا دوں میں تو فقط اک مطالبہ اپنے نوک قلم سے اپنے حکمراں طبقے سے کرنا چاہتا ہوں کہ جہاں پناہ اگر ثبوت و شواہد کی عدم دستیابی کی وجہ سے آپ کسی کو اجازت نہیں دیتے کہ وہ آپ کو آپ کی کرسی سے علیحدہ کرسکے اور آپ کی ذات شریف پر کوئی کیچڑ اچھال سکے تو آپ نے کن ثبوت و شواہد کی بنا پر پاکستان کے اس اک معزز شہری کو پابند سلاسل کیا ہوا ہے کہ پورے پاکستان میں کسی بھی تھانے میں اک بھی ایف آئی آر اس کے خلاف نہیں ہے۔ جس کو پاکستان کی اعلی عدالتوں نے صاف طور پر کلین چٹ دی ہے۔ جس کے خلاف آپ کی پیش رو حکومتیں بھی ایڑھی چوٹی کا زور لگا کر پاکستان کی اعلی عدالتوں کے سامنے اس کے کسی پاکستان مخالف یا کسی مجرمانہ کام میں ملوث ہونے پر ایک بھی ثبوت یا گواہ پیش نہیں کرسکے تھے جس کی وجہ سے پاکستان کی عدالت عظمی نے اس محب وطن پاکستانی کو ہر قسم کے الزام سے بری قرار دیا مگر آپ اور آپ کی حکومتی مشینری نے پاکستان کے اس معزز شہری کو پابند سلاسل کردیا اور اس کے بنیادی حقوق سے اس کو محروم کردیا جس کی اجازت آئین پاکستان بھی نہیں دیتا۔ میرا آپ سے فقط اتنا سا مطالبہ ہے کہ آپ نے کن "ثبوت و شواہد" کی بنیاد پر پاکستان کے آزاد شہری کو پچھلے پانچ ماہ سے نظر بند کیا ہوا ہے اور اس پر مستزاد یہ کہ عدالت میں آپ کے وکلاء اس شخص کے خلاف ایسا کچھ بھی مواد پیش کرنے سے قاصر ہیں جن کی بنیاد پر اس شخص کو مزید نظر بند یا زیر حراست رکھا جا سکے تو کن وجوہ کی بنیاد پر مسلسل اس کی نطر بندی میں اضافہ کیا جارہا ہے اور عدالتی کاروائی کو مسلسل تاریخوں پر ملتوی کیا جارہا ہے۔ اوپر سے آپ کے وزراء اس شخص کے خلاف یہ زہریلا پروپیگنڈا کر رہے ہوتے ہیں کہ حافظ سعید سے معاشرے کو خطرہ ہے۔ خدارا عوام پاکستان کو بھی اس خطرے اور حافظ سعید کے گناہوں (جو آپ کی نظر میں معتوب کام ہیں) سے آگاہ کیا جائے کیونکہ عوام پاکستان نے تو ہمیشہ حافظ سعید کو اک محب وطن پاکستانی اور اک درد دل رکھنے والا انسان ہی پایا ہے۔ اگر کشمیر کی بات کرنے اور کشمیریوں کی وکالت کرنے کی وجہ سے حافظ سعید آپ کے زیر عتاب آئے ہیں تو یہ مقدمہ پھر بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح پر بھی کرنے کی جسارت کرو پھر یہ مقدمہ پاکستان کے کروڑوں عوام پر بھی کرو جن کے دل اپنے کشمیری بھائیوں کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔ سارا پاکستان ہی کشمیر کی بات کرتا ہے تو پھر اکیلا حافظ سعید ہی مطعون کیوں؟ اس معاملے میں تو سارا پاکستان ہی حافظ سعید ہے۔ اگر آپ کے پاس واقعی کوئی ثبوت ہے تو اس کو عدالت میں پیش کرو وگرنہ حافظ سعید جو کہ یک محب وطن پاکستانی ہیں ان کی نظر بندی کو ختم کرکے ان کے بنیادی حقوق ان کو دئے جائیں۔

جمعہ, جولائی 7, 2017

تحریک آزادی جموں کشمیر کا ہیرو۔۔۔۔۔برہان مظفر وانی شہید

0 تبصرے

قوموں اور تحریکوں کی تاریخ میں کچھ ایسے اشخاص بھی آتے ہیں جن کے کردار و عمل کی وجہ سے ان کا نام تاریخ کے اوراق میں ہمیشہ کے لیے زندہ جاوید ہو جاتا ہے۔ یہی وہ لوگ ہوتے ہیں جو اپنے کردارسے آزادی کی تحریکوں کو جلا بخشتے ہیں۔ ایسے ہی لوگوں میں ایک روشن نام برہان مظفر وانی شہید کا ہے کہ جس نے تحریک آزادی جموں و کشمیر کی سلگتی چنگاری کو اپنے گرم لہو سے شعلہ جوالا میں تبدیل کردیا۔ جموں کشمیر کے قصبہ ترال میں ایک استاد کے گھر میں جنم لینے والے ہونہار بچے برہان مظفر وانی نے تحریک آزادی جموں کشمیر کو اپنے خون جگر سے کچھ اس انداز سے سینچا کہ برہان کا نام تحریک سے وابستہ ہر فرد کے لیے ہیرو اور مقدس شخصیت کا درجہ حاصل کر چکا ہے۔ جموں وکشمیر کے لوگ اپنے بچوں کو آزادی کے اس مجاہد کی دیومالائی داستانیں سناتے نہیں تھکتے۔ اپنے اسکول کے ذہین طالب علم کا صرف پندرہ سال کی عمر میں قلم و قرطاس سے ناطہ توڑ کر گن اٹھا کر ظالم ہندو فوج کے سامنے برسر پیکار ہو جانا ایک بہادری ، شجاعت اور سرفروشی کی ایک ایسی داستان ہے جس نے جموں و کشمیر کے مظلوم مسلمانوں میں ایک نئی روح پھونک دی ہے۔ برہان نے اپنی شہادت سے اپنی قوم کو ایک ایسا ولولہ تازہ دیا ہے جس نے پوری کشمیری قوم کو از سرنو بھارتی فوج کے ظلم و ستم کے سامنے سینہ سپر بنا کر کھڑا کردیا ہے۔ 6 سال کی عمر کے بچے سے لے کر 70 سال کے ضعیف افراد تک ہر فرد آج ظالم بھارتی افواج کے ٹینکوں ، بکتربند گاڑیوں، توپوں، پیلٹس اور شیلنگ کے سامنے پتھر ہاتھ میں پکڑ کر گویاابابیلوں کی مانند ابرہہ کے ہاتھیوں کا مقابلہ کر رہے ہیں۔ برہان مظفر وانی کہ جس کو بھارتی فوج کے مظالم نے اپنی تعلیم کو خیر آباد کہہ کر مجاہدین کی صفوں میں شامل ہونا پڑا اس دور مین منظر میں عام پر آیا کہ جس میں بھارتی پروپیگنڈا عام تھا کہ کشمیر میں آزادی کی جنگ لڑنے والے مجاہدین سرحد پار سے آیا کرتے ہیں۔ یوں بھارت پاکستان کو بدنام کرنے کی سازشوں میں مصروف تھا کہ ایسے وقت ایک کشمیری نوجوان برہان مظفر وانی شہید کا ایک ویڈیو پیغام منظر عام پر آیا جس میں وہ کشمیری نوجوانوں کو مجاہدین کی صفوں میں شامل ہونے کی ترغیب دے رہا تھا۔ یہ ویڈیو دیکھ کر بھارتی افواج کو تو یقین مانو جیسے آگ لگ گئی ہو ، انہوں اس نوجوان برہان کو تلاش کرنے کے لیے اپنی پوری طاقت صرف کردی مگر 2011 سے لے کر 2015 تک یہ نوجوان مسلسل بھارتی افواج افواج کے ساتھ آنکھ مچولی کھیلتا رہا اور ان پر کاری زخم لگاتا رہا، اسی دوران برہان دوسرے مجاہدین کے برعکس کھلم کھلا اپنی شانخت کرواتا اور سوشل میڈیا استعمال کرتے ہوئے اسلحہ کے ساتھ اپنی ویڈیوز اور تصویروں کے ساتھ کشمیری نوجوانوں کو آزادی کی جنگ لڑنے والے کشمیری مجاہدین کی صفوں میں شامل ہونے کی ترغیب دیتا رہا۔ اس کی یہ تصویریں اور ویڈیوز دنوں میں وائرل ہو جاتیں اور کشمیری نوجوانوں کے لیے ایک مہمیز کا کام کرتیں۔اس کی پکار پر لبیک کہتے ہوئے بیسیوں کشمیری نوجوانوں نے اپنی تعلیمی مصروفیات کو ترک کرتے ہوئے ظالم بھارتی افواج سے برسرپیکار ہونے کو ترجیح دی۔ 2015 میں بھارتی افواج نے برہان مظفر وانی کے بھائی خالد مظفر کو اپنے دوستوں سمیت تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے شہید کردیا مگر یہ خبر برہان کے پایہ استقلال میں کوئی لغزش نہ لاسکی او ر وہ پہلے سے بھی زیادہ بھارتی افواج کے مقابلے پر ڈٹا رہا ۔ 8 جولائی 2016 کو بھارتی افواج نے ایک اطلاع پر اس گھر کا محاصرہ کیا جس میں برہان اپنے ساتھیوں سمیت موجود تھا۔ بھارتی افواج نے ہزاروں کی تعداد میں اس گھر کو گھیرے میں لے لیا اور بمباری کرکے برہان کو اپنے ساتھیوں سمیت شہید کردیا۔برہان کی شہادت کی اطلاع پورے کشمیر میں جنگل میں آگ کی طرح پھیل گئی۔لوگ جوق در جوق ترال میں اکٹھے ہونا شروع ہوگئے۔ جب برہان کا جنازہ اٹھا تو تین لاکھ سے زائد لوگ اس جنازے کے ہمراہ تھے۔ برہان کی میت کو کندھا دینے کی خاطر گھمسان کا رن پڑ رہا تھا۔ برہان کا جنازہ بھارت کے لیے نوشتہ دیوار تھا کہ ساری کشمیری قوم برہان کا جنازہ ادا کر رہی تھی اور برہان بنو گے ہاں بھئی ہاں کے نعرے لگاتے ہوئے برہان کے مشن کو آگے بڑھانے کا عزم کر رہی تھی۔ برہان کو پاکستانی پرچم میں لپیٹ کر دفن کرکے اس کی پاکستان سے محبت کا ثبوت دیا گیا۔ برہان کے جنازے میں ہر سو پاکستان کے پرچم لہرا رہے تھے۔ اس کی شہادت کے بعد ایک صحافی اس کے گھر پہنچی اور اس کے بوڑھے والد کا انٹرویو لیا جو آج بھی سوشل سائٹس پر موجود ہے۔ اس انٹرویو میں صحافی کے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے برہان کے باشرع والد کا کہنا تھا کہ آج ساری کشمیری قوم کا یہ نعرہ ہے کہ ہم برہان کے مشن کو آگے بڑھائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلے ایک بیٹا شہید ہوا اب برہان شہید ہوگیا اگر آزادی کی خاطر مجھے اپنی جان بھی قربان کرنا پری تو کروں گا اور میری ایک بیٹی ہے کشمیر کی آزادی کی خاطر وہ بیٹی بھی قربان۔ صحافی ان سے پوچھ رہی تھی کہ آپ کا بیٹا بھارتی فوج نے شہید کردیا آپ کو دکھ تو ہوا ہوگا اس پر برہان شہید کے والد نے جو ایمان افروز جواب دیا اس نے ساری کشمیری قوم میں جزبہ ایمانی کو جگادیا، ان کا کہنا تھا کہ اللہ پہلے ہے بیتا بعد میں، نبیﷺ پہلے ہیں بیٹا بعد میں، قرآن پہلے ہے بیٹا بعد میں۔ برہان مظفر کی بھارتی افواج کے ہاتھوں ہاتھوں ماورائے عدالت شہادت نے پوری کشمیری قوم میں اک نئی جرات اور جذبہ پیدا کردیا اور دیکھتے ہی دیکھتے پوری قوم ہاتھوں میں پاکستانی پرچم لیے سڑکو ں پر آن موجود ہوئی اور آزادی کے حق میں بھارتی افواج کے خلاف نعرے لگانے شروع کردیے۔یہ صورتحال درندہ صفت بھارتی افواج کے لیے ناقابل برداشت تھی۔ انہوں نے ماضی کی روایات پر عمل کرتے ہوئے مظاہرین پر اپنی گنوں کے منہ کھول دیے، درندگی اور سفاکیت کی انتہا کا مظاہرہ کرتے ہوئے بھارتی افواج نے برہان مظفر وانی شہید کی شہادت پر احتجاج کرنے والوں پر پیلٹس گنوں سے فائرنگ شروع کردی اور ہزاروں کشمیری بچوں، نوجوانوں، بوڑھوں اور عورتوں کے جسموں کو چھلنی چھلنی کردیا ۔ ایک سو سے زائد شہید ہوگئے۔ مگر یہ زخم اور شہادتیں کشمیریوں آزادی کی مانگ سے روک نہ سکیں بلکہ کشمیری ہر شہادت کے بعد پہلے سے بھی زیادہ آب و تاب کے ساتھ سڑکوں پر موجود ہوتے اور پاکستان کا پرچم لہراتے ہوئے بھارتی افواج کی گولیوں اور پیلٹس کے مقابلے میں پتھروں کے ساتھ ڈٹے رہے۔ ظالم و قابض بھارتی فوج نے اس صورتحال پر قابو پانے کے لیے وادی میں تاریخ کا لمبا ترین کرفیو نافذ کردیا اور انٹرنیٹ تک کو بند کردیا۔ مگر کشمیری آج بھی جوش اور جذبے کے ساتھ بھارتی افواج کے مقابلے پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ اور تحریک آزادی جموں و کشمیر آج جس انتہا اور عروج پر پہنچ چکی ہےخود بھارت کے اندر سے آوازیں اٹھنا شروع ہوگئیں ہیں کہ کشمیر بھارت کے ہاتھ سے پھسلتا جا رہا ہے۔ آج برہان وانی کی شہادت کو ایک سال پورا ہو رہا ہے اور اس کے ساتھ ہی کشمیریوں کی تحریک انتفاضہ کا بھی ایک سال مکمل ہو رہا ہے اور کشمیر کی کیفیت یہ ہے کہ اسکول ،کالجز اور یونیورسٹیز کےطلبا و طالبات ہاتھوں میں پاکستانی پرچم اور پتھر لیے سارا سارا دن بھارتی فوج پر پتھراؤ کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ بھارتی مسلح افواج کے سربراہ جنرل بپن راوت کو کشمیری نوجوانوں سے درخوست کرنا پڑی کہ کشمیری نوجوان پاکستان کا پرچم اٹھانا بند کردیں ۔برہان وانی کی شہادت پر پاکستان کے وزیر اعظم میاں نواز شریف نے اقوام متحدہ میں کھڑے ہوکر برہان کو آزادی کا ہیرو کہا تھا جس سے کشمیری قوم کو بہت حوصلہ ملا۔ آج وزیر اعظم پاکستان کے ہیرو برہان مظفر وانی کی شہادت کو ایک سال مکمل ہو رہا تو پاکستان کو دیکھنا چاہیے کہ کشمیری تو آج بھی ڈٹے ہوئے اور پاکستان کی محبت اور پاکستانی پرچم اٹھانے کی پاداش میں اپنے پیاروں کی لاشوں کو اٹھانا پڑتا ہے مگر آج کشمیریوں کا وکیل پاکستان کہاں کھڑا ہے۔ پاکستان کی انتظامیہ کو چاہیے کہ برہان مظفر وانی کی شہادت کے ایک سال پورا ہونے اور کشمیر کی آزادی کی تحریک میں حالیہ عروج کو سپورٹ کرنے کے لیے پورے ملک میں ہفتہ کشمیر منایا جائے اور پورے ملک میں پروگرامز، ریلیاں اور تقریبات وغیرہ منعقد کی جائیں اور اس کے ساتھ ساتھ اقوام عالم میں کشمیر کے مقدمے کو زبردست انداز میں پیش کرکے بھارتی افواج کے مظالم کو اقوام عالم کے سامنے پیش کیا جائے اور کشمیر کی آزادی کی تحریک کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے حتی المقدور کوشش کی جائے۔ 7885196@gmail.com 03346419973

منگل, جون 13, 2017

'پاکستان میں انصاف کی حالت زار"

0 تبصرے
چوڑی فلاسفی پیش نہیں کروں گا، وطن عزیز مین انصاف کی حالت زار دیکھتے ہوئے دل خون کے آنسو روتا ہے جس میں طاقت والے اگرچہ وہ ظالم و قاتل ہی کیوں نہ ہوں ان کو باعزت بری اور مظلوم اور غریب کو اگرچہ وہ بے گناہ و بے قصور ہی کیوں نہ ہوں ان کو سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا جاتا ہے آج آپ کے سامنے چند ایسے کردار رکھوں گا جن کو آپ لوگ احسن انداز میں جانتے ہیں 1- پاکستان کے سابق مشیر پٹرولیم جو 479 ارب روپے کی کرپشن مین ملوث تھے سندھ رینجر اور سیکیورٹی اداروں نے جانوں پر کھیل کر ان کے خلاف ثبوت متعلقہ اداروں کو دیے مگر حضرت 50 لاکھ کے مچلکے جمع کروا کر ضمانت حاصل کی اور انصاف کو ٹھینگا دکھاتے ہوئے گھر کو رواں دواں۔ ۔ ۔ 2- اوگرا کے سابق چئیرمین جو82 ارب لوٹ کر بیرون ملک فرار ہوگئے تھے جن کی گرفتاری دبئی سے عمل میں لائی گئی مگر یہ حضرت بھی اڈیالہ جیل سے فقط 10 ،10 لاکھ کے دو مچلکے جمع کروا کر انصاف کا کباڑہ کرتے ہوئے سوئے لاہور روانہ ہوئے ۔ ۔ ۔ ۔ 3- تیسرا بڑا نام ان حضرت کا ہے جنہوں نے اللہ کے مہمانوں حاجیوں تک کو بھی بخشا جی ہاں میری مراد سابق وزیر حامد سعید کاظمی صاحب جو حج کرپشن کیس میں بڑی دھوم دھام سے گرفتار کیے گئے تھے مگر بعد ازاں حسب روایت انصاف و قانون کو گولی کرواتے ہوئے باعزت بری ہوگئے ۔ ۔ ۔ ۔ 4- سندھ دھرتی کے سپوت جناب شرجیل میمن صاحب جن پر 5 ارب 76 کروڑ روپے کی کرپشن ثابت ہوئی اور ان کو پاکستان آمد پر گرفتار کیا گیا مگر کچھ پردہ نشینوں کے نام سامنے آنے اور کرپشن کے مزید کیسز کھلنے کے خوف سے کچھ ڈوریاں چیک چینل ڈپلومیسی کے تحت ہلیں اور جناب شرجیل میمن صاحب باعزت بری۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 5- رینٹل پاور کی مد میں قومی حزانے کو اربوں روپے کا چونا لگانے والے جناب راجہ رینٹل پرویز اشرف صاحب جن کو باقاعدہ ملزم قرار دیا گیا مگر وہ آزادانہ گھومتے پھرتے رہے اور ان کی تفتیش کرنے والا آفیسر اپنے گھر میں مردہ حالت میں پایا گیا جس کی تاحال تفتیش نہیں ہوسکی ۔ ۔ 6- اسی طرح کچھ دن پہلے کی رپورٹ آپ لوگوں کو یاد ہوگی کہ پاکستان میں احتساب کے قومی ادارے (نیب) نے اربوں روپے کی مبینہ کرپشن کے ڈیڑھ سو بڑے مقدمات کی رپورٹ ملکی سپریم کورٹ میں جمع کرا دی ہے۔ رپورٹ کے مطابق وزیراعظم نواز شریف، ان کے بھائی وزیراعلٰی پنجاب شہباز شریف، وزیر خزانہ اسحاق ڈار اور سابق وزرائے اعظم راجہ پرویز اشرف، چوہدری شجاعت، سابق وزیر اعلٰی پنجاب چوہدری پرویز الٰہی، سابق وزیر اعلٰی بلوچستان اسلم رئیسانی، سابق وفاقی وزراء آفتاب شیر پاؤ اور فردوس عاشق اعوان کے علاوہ دیگر سیاستدانوں اور بیوروکریٹس کے خلاف مالی بد عنوانی اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے مقدمے زیر تفتیش ہیں۔ قارئین یہ تو صرف کرپشن کے چند کیسز تھے کہ جن میں قومی حزانے سے اربوں نہیں کھربوں کی خرد برد کی گئی مگر یہ کرپشن کے مہا بچاری آج بھی آزاد ہین اور اقتدار کے مزے لوٹ رہے ہیں ان کے علاوہ بہت سارے کیسز کرپشن کے ہیں اسی طرح اگر دیکھا جائے تو دہشت گردی، امن عامہ کو نقص پہنچانے والے اور اس سے بھی بڑھ قومی سلامتی تک بیچ جانے والی کتنی مقدس گائیں ایسئ ہیں جن کو کوئی ہاتھ بھی نہیں لگا سکتا، میمو گیٹ اسکینڈل کس کو یاد نہیں ہوگا، ایبٹ آباد کمیشن کی رپورٹ کیوں منظرعام پر نہیں آتی، حسین حقانی کی وفاداریاں کس کو یاد نہیں مگر سبھی آزاد ہیں سبھی پگڑیاں سروں پر ہیں۔ اسی طرح سے حالیہ لیک ہونے والی خطرناک رپورٹ کے سارے پاکستانیوں کا مکمل ڈیٹا امریکہ کی ایجنسیوں کو بیچا گیا مگر کوئی اس پر بولنے والا نہیں کیونکہ ان سارے معاملات سے کونسا پاکستان، عوام پاکستان، قومی سلامتی، ملکی عزت کو خطرہ ہے اس لیے سبھی آزاد اور شتر بے مہار ہیں ہاں اگر پاکستانی معاشرے کو خطرہ ہے تو حافظ سعید سے، ملکی مفادات کو آنچ آتی ہے تو حافظ سعید کی آواز سے ہمارے دوست ناراض ہوتے ہیں تو حافظ سعید کی نقل و حمل سے اس لیے حافظ سعید کو پکڑو اس کو قید کردو اور اگر کوئی پوچھے بھئی اس کا جرم کیا ہے تو بتلا دو کہ اس سے معاشرے کو خطرہ ہے۔ قارئین آیے ذرا دیکھتے ہیں کہ حافظ سعید سے ہمارے معاشرے کو کیا خطرہ ہے؟ تھرپارکر جہاں بھوک اور موت رقص کرتی تھی آج وہاں مسکراہٹیں اور ہریالی ہے تو حافظ سعید کی وجہ سے۔ ۔ بلوچستان جہاں پاکستان کا نام لینا جرم تھا اور شناختی کارڈ دیکھ کر قتل و غارت ہوتی تھی آج وہاں پاکستان کا لہراتا پرچم ہے تو حافظ سعید کی وجہ سے۔ ۔ ۔ سیلابوں ، زلزلوں، طوفانوں میں ملک و قوم کو اگر سہارا دیتا ہے تو حافظ سعید۔ ۔ ۔ ۔ ضرب عضب آپریشن میں جب فوج پر فتوؤں کی بارش ہو رہی تھی تو قوم اور سرکردہ مذہبی اور سیاسی جماعتوں کو فوج کے پشتیبان بنا کر کھڑا کرتا ہے تو حافظ سعید۔ ۔ ۔ پاکستان میں کہیں آگ لگ جائے، حادثہ ہو جائے یا کوئی بھی مسئلہ بن جائے تو مدد اور ریسکیو کے لیے سب سے پہلے پہنچنے والے کارکن حافظ سعید کے ۔ ۔ ۔ پاکستان ہی کیا اسلامی دنیا کی سب سے بڑی فلاحی اور ریسکیو کی تنظیم حافظ سعید کی ۔ ۔ ۔ برما ، صومالیہ، فلسطین، انڈونیشیا، افغانستان، کشمیر، شام اور دنیا میں بسنے والے دیگر مظلوم مسلمانوں کی اگر کوئی مدد کرتا ہے تو وہ حافظ سعید ۔ ۔ ۔ امت مسلمہ کے مظلموم مسلمانون کا واحد وکیل ہے تو حافظ سعید ۔ ۔ ۔ کشمیریوں کی ترجمانی کرتی مضبوط اور توانا آواز ہے تو حافظ سعید ۔ ۔ ۔ فتنوں اور آزمائشوں کے دور میں بھی نظریہ پاکستان ہی بقائے پاکستان کا نعرہ اور سبز ہلالی پرچم اٹھا کر جو قوم کا مورال بلند کرتا تو حاٖفظ سعید۔ ۔ ۔ میں حافظ سعید کا کون کونسا جرم بیان کروں جس کی وجہ سے اس کی غیر قانونی اور بلاوجہ کی نظربندی ختم ہونے کا نام نہیں لیتی اور حکومتی وکلاء عدالت میں فقط حیلوں بہانوں سے ڈنگ ٹپا رہے ہیں ۔ ۔ ۔ میں یہ سب دیکھتا ہوں تو دل سے یہی آہ نکلتی ہے کہ آخر کب تک ہم پاکستانی اپنے محسنوں سے ایسا ہی سلوک کرتے رہیں گے ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟ 03346419973 7885196@gmail.com