اتوار, جولائی 16, 2017

"ثبوت و شواہد"

کیا دہرا معیار ہے ہمارے معزز حکمران طبقے کا کہ ان کی طرف کوئی انگلی اٹھے تو سب بیک زبان ہوکر ثبوت ثبوت پکارنے لگتے ہیں اور اس کو جمہوریت کے لیے خطرہ خطرہ کی گردان کرنے لگتے ہیں گویا جمہوریت نہ ہوئی پتھروں میں پڑا کوئی آبگینہ ہو یا خطرناک غنڈوں میں پھنسی کوئی "شریف" سی رضیہ ہو۔ مثال کے طور پر حالیہ حالات و واقعات میں سے پانامہ لیکس اوربعد ازاں اس کی بنیاد پر پاکستان کی اشرافیہ کے کالے چہرے عوام پاکستان پر منکشف ہونے اور اس کی بنیاد پر پاکستان کی تاریخ میں غیر معمولی طور پر ہلچل مچادینے والے پاکستان کی سپریم کورٹ میں چلنے والے اس معاملے اور اس پر بننے والی جے آئی ٹی کی تحقیقات اس کی بنیاد پر پیش کی جانے والی پاکستان کے حکمران خاندان کی بدعنوانیوں اور کرپشن پر ثبوت و شواہد پر مبنی تاریخی رپورٹ کو حکمران طبقہ ردی کی گٹھری کہہ کر جٹھلا رہا ہے۔ اور یہ مطالبہ کر رہا ہے کہ ہمارے خلاف کوئی ثبوت ہے تو پیش کرو وگرنہ ہم اقتدار کی کرسی کو چھوڑنے والے نہیں ہیں۔ حکمران خاندان شریفاں کا یہ مطالبہ کوئی آج کا نہیں بلکہ ایک سال قبل جب پانامہ لیکس کی گونج پاکستان تک پہنچی تھی اور اس کی بنیاد پر اپوزیشن کی جماعتوں نے ان لیکس کی بنیاد پر حکمران طبقے پر پریشر بڑھانا شروع کیا تھا تب سے وہ اپنے دفاع کی خاطر یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ ہماری کرپشن اور بدعنوانی پر اگر کوئی ثبوت ہے تو پیش کرو۔ میرا آج کا مسئلہ یہ نہیں کہ میں خاندان شریفاں کی کرپشن کو ثابت کرنے کے لیے دلائل دوں یہ عدالتوں کے کام ہیں ان کو یہ کام کرنے دیا جائے یا میں تحریک انصاف کی اس ملک کی اقتدار کی کرسی پر بیٹھنے کی دیرینہ خواہش کی تکمیل کی خاطر ایڑھی چوٹی کا زور لگا دوں میں تو فقط اک مطالبہ اپنے نوک قلم سے اپنے حکمراں طبقے سے کرنا چاہتا ہوں کہ جہاں پناہ اگر ثبوت و شواہد کی عدم دستیابی کی وجہ سے آپ کسی کو اجازت نہیں دیتے کہ وہ آپ کو آپ کی کرسی سے علیحدہ کرسکے اور آپ کی ذات شریف پر کوئی کیچڑ اچھال سکے تو آپ نے کن ثبوت و شواہد کی بنا پر پاکستان کے اس اک معزز شہری کو پابند سلاسل کیا ہوا ہے کہ پورے پاکستان میں کسی بھی تھانے میں اک بھی ایف آئی آر اس کے خلاف نہیں ہے۔ جس کو پاکستان کی اعلی عدالتوں نے صاف طور پر کلین چٹ دی ہے۔ جس کے خلاف آپ کی پیش رو حکومتیں بھی ایڑھی چوٹی کا زور لگا کر پاکستان کی اعلی عدالتوں کے سامنے اس کے کسی پاکستان مخالف یا کسی مجرمانہ کام میں ملوث ہونے پر ایک بھی ثبوت یا گواہ پیش نہیں کرسکے تھے جس کی وجہ سے پاکستان کی عدالت عظمی نے اس محب وطن پاکستانی کو ہر قسم کے الزام سے بری قرار دیا مگر آپ اور آپ کی حکومتی مشینری نے پاکستان کے اس معزز شہری کو پابند سلاسل کردیا اور اس کے بنیادی حقوق سے اس کو محروم کردیا جس کی اجازت آئین پاکستان بھی نہیں دیتا۔ میرا آپ سے فقط اتنا سا مطالبہ ہے کہ آپ نے کن "ثبوت و شواہد" کی بنیاد پر پاکستان کے آزاد شہری کو پچھلے پانچ ماہ سے نظر بند کیا ہوا ہے اور اس پر مستزاد یہ کہ عدالت میں آپ کے وکلاء اس شخص کے خلاف ایسا کچھ بھی مواد پیش کرنے سے قاصر ہیں جن کی بنیاد پر اس شخص کو مزید نظر بند یا زیر حراست رکھا جا سکے تو کن وجوہ کی بنیاد پر مسلسل اس کی نطر بندی میں اضافہ کیا جارہا ہے اور عدالتی کاروائی کو مسلسل تاریخوں پر ملتوی کیا جارہا ہے۔ اوپر سے آپ کے وزراء اس شخص کے خلاف یہ زہریلا پروپیگنڈا کر رہے ہوتے ہیں کہ حافظ سعید سے معاشرے کو خطرہ ہے۔ خدارا عوام پاکستان کو بھی اس خطرے اور حافظ سعید کے گناہوں (جو آپ کی نظر میں معتوب کام ہیں) سے آگاہ کیا جائے کیونکہ عوام پاکستان نے تو ہمیشہ حافظ سعید کو اک محب وطن پاکستانی اور اک درد دل رکھنے والا انسان ہی پایا ہے۔ اگر کشمیر کی بات کرنے اور کشمیریوں کی وکالت کرنے کی وجہ سے حافظ سعید آپ کے زیر عتاب آئے ہیں تو یہ مقدمہ پھر بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح پر بھی کرنے کی جسارت کرو پھر یہ مقدمہ پاکستان کے کروڑوں عوام پر بھی کرو جن کے دل اپنے کشمیری بھائیوں کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔ سارا پاکستان ہی کشمیر کی بات کرتا ہے تو پھر اکیلا حافظ سعید ہی مطعون کیوں؟ اس معاملے میں تو سارا پاکستان ہی حافظ سعید ہے۔ اگر آپ کے پاس واقعی کوئی ثبوت ہے تو اس کو عدالت میں پیش کرو وگرنہ حافظ سعید جو کہ یک محب وطن پاکستانی ہیں ان کی نظر بندی کو ختم کرکے ان کے بنیادی حقوق ان کو دئے جائیں۔

جمعہ, جولائی 7, 2017

تحریک آزادی جموں کشمیر کا ہیرو۔۔۔۔۔برہان مظفر وانی شہید


قوموں اور تحریکوں کی تاریخ میں کچھ ایسے اشخاص بھی آتے ہیں جن کے کردار و عمل کی وجہ سے ان کا نام تاریخ کے اوراق میں ہمیشہ کے لیے زندہ جاوید ہو جاتا ہے۔ یہی وہ لوگ ہوتے ہیں جو اپنے کردارسے آزادی کی تحریکوں کو جلا بخشتے ہیں۔ ایسے ہی لوگوں میں ایک روشن نام برہان مظفر وانی شہید کا ہے کہ جس نے تحریک آزادی جموں و کشمیر کی سلگتی چنگاری کو اپنے گرم لہو سے شعلہ جوالا میں تبدیل کردیا۔ جموں کشمیر کے قصبہ ترال میں ایک استاد کے گھر میں جنم لینے والے ہونہار بچے برہان مظفر وانی نے تحریک آزادی جموں کشمیر کو اپنے خون جگر سے کچھ اس انداز سے سینچا کہ برہان کا نام تحریک سے وابستہ ہر فرد کے لیے ہیرو اور مقدس شخصیت کا درجہ حاصل کر چکا ہے۔ جموں وکشمیر کے لوگ اپنے بچوں کو آزادی کے اس مجاہد کی دیومالائی داستانیں سناتے نہیں تھکتے۔ اپنے اسکول کے ذہین طالب علم کا صرف پندرہ سال کی عمر میں قلم و قرطاس سے ناطہ توڑ کر گن اٹھا کر ظالم ہندو فوج کے سامنے برسر پیکار ہو جانا ایک بہادری ، شجاعت اور سرفروشی کی ایک ایسی داستان ہے جس نے جموں و کشمیر کے مظلوم مسلمانوں میں ایک نئی روح پھونک دی ہے۔ برہان نے اپنی شہادت سے اپنی قوم کو ایک ایسا ولولہ تازہ دیا ہے جس نے پوری کشمیری قوم کو از سرنو بھارتی فوج کے ظلم و ستم کے سامنے سینہ سپر بنا کر کھڑا کردیا ہے۔ 6 سال کی عمر کے بچے سے لے کر 70 سال کے ضعیف افراد تک ہر فرد آج ظالم بھارتی افواج کے ٹینکوں ، بکتربند گاڑیوں، توپوں، پیلٹس اور شیلنگ کے سامنے پتھر ہاتھ میں پکڑ کر گویاابابیلوں کی مانند ابرہہ کے ہاتھیوں کا مقابلہ کر رہے ہیں۔ برہان مظفر وانی کہ جس کو بھارتی فوج کے مظالم نے اپنی تعلیم کو خیر آباد کہہ کر مجاہدین کی صفوں میں شامل ہونا پڑا اس دور مین منظر میں عام پر آیا کہ جس میں بھارتی پروپیگنڈا عام تھا کہ کشمیر میں آزادی کی جنگ لڑنے والے مجاہدین سرحد پار سے آیا کرتے ہیں۔ یوں بھارت پاکستان کو بدنام کرنے کی سازشوں میں مصروف تھا کہ ایسے وقت ایک کشمیری نوجوان برہان مظفر وانی شہید کا ایک ویڈیو پیغام منظر عام پر آیا جس میں وہ کشمیری نوجوانوں کو مجاہدین کی صفوں میں شامل ہونے کی ترغیب دے رہا تھا۔ یہ ویڈیو دیکھ کر بھارتی افواج کو تو یقین مانو جیسے آگ لگ گئی ہو ، انہوں اس نوجوان برہان کو تلاش کرنے کے لیے اپنی پوری طاقت صرف کردی مگر 2011 سے لے کر 2015 تک یہ نوجوان مسلسل بھارتی افواج افواج کے ساتھ آنکھ مچولی کھیلتا رہا اور ان پر کاری زخم لگاتا رہا، اسی دوران برہان دوسرے مجاہدین کے برعکس کھلم کھلا اپنی شانخت کرواتا اور سوشل میڈیا استعمال کرتے ہوئے اسلحہ کے ساتھ اپنی ویڈیوز اور تصویروں کے ساتھ کشمیری نوجوانوں کو آزادی کی جنگ لڑنے والے کشمیری مجاہدین کی صفوں میں شامل ہونے کی ترغیب دیتا رہا۔ اس کی یہ تصویریں اور ویڈیوز دنوں میں وائرل ہو جاتیں اور کشمیری نوجوانوں کے لیے ایک مہمیز کا کام کرتیں۔اس کی پکار پر لبیک کہتے ہوئے بیسیوں کشمیری نوجوانوں نے اپنی تعلیمی مصروفیات کو ترک کرتے ہوئے ظالم بھارتی افواج سے برسرپیکار ہونے کو ترجیح دی۔ 2015 میں بھارتی افواج نے برہان مظفر وانی کے بھائی خالد مظفر کو اپنے دوستوں سمیت تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے شہید کردیا مگر یہ خبر برہان کے پایہ استقلال میں کوئی لغزش نہ لاسکی او ر وہ پہلے سے بھی زیادہ بھارتی افواج کے مقابلے پر ڈٹا رہا ۔ 8 جولائی 2016 کو بھارتی افواج نے ایک اطلاع پر اس گھر کا محاصرہ کیا جس میں برہان اپنے ساتھیوں سمیت موجود تھا۔ بھارتی افواج نے ہزاروں کی تعداد میں اس گھر کو گھیرے میں لے لیا اور بمباری کرکے برہان کو اپنے ساتھیوں سمیت شہید کردیا۔برہان کی شہادت کی اطلاع پورے کشمیر میں جنگل میں آگ کی طرح پھیل گئی۔لوگ جوق در جوق ترال میں اکٹھے ہونا شروع ہوگئے۔ جب برہان کا جنازہ اٹھا تو تین لاکھ سے زائد لوگ اس جنازے کے ہمراہ تھے۔ برہان کی میت کو کندھا دینے کی خاطر گھمسان کا رن پڑ رہا تھا۔ برہان کا جنازہ بھارت کے لیے نوشتہ دیوار تھا کہ ساری کشمیری قوم برہان کا جنازہ ادا کر رہی تھی اور برہان بنو گے ہاں بھئی ہاں کے نعرے لگاتے ہوئے برہان کے مشن کو آگے بڑھانے کا عزم کر رہی تھی۔ برہان کو پاکستانی پرچم میں لپیٹ کر دفن کرکے اس کی پاکستان سے محبت کا ثبوت دیا گیا۔ برہان کے جنازے میں ہر سو پاکستان کے پرچم لہرا رہے تھے۔ اس کی شہادت کے بعد ایک صحافی اس کے گھر پہنچی اور اس کے بوڑھے والد کا انٹرویو لیا جو آج بھی سوشل سائٹس پر موجود ہے۔ اس انٹرویو میں صحافی کے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے برہان کے باشرع والد کا کہنا تھا کہ آج ساری کشمیری قوم کا یہ نعرہ ہے کہ ہم برہان کے مشن کو آگے بڑھائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلے ایک بیٹا شہید ہوا اب برہان شہید ہوگیا اگر آزادی کی خاطر مجھے اپنی جان بھی قربان کرنا پری تو کروں گا اور میری ایک بیٹی ہے کشمیر کی آزادی کی خاطر وہ بیٹی بھی قربان۔ صحافی ان سے پوچھ رہی تھی کہ آپ کا بیٹا بھارتی فوج نے شہید کردیا آپ کو دکھ تو ہوا ہوگا اس پر برہان شہید کے والد نے جو ایمان افروز جواب دیا اس نے ساری کشمیری قوم میں جزبہ ایمانی کو جگادیا، ان کا کہنا تھا کہ اللہ پہلے ہے بیتا بعد میں، نبیﷺ پہلے ہیں بیٹا بعد میں، قرآن پہلے ہے بیٹا بعد میں۔ برہان مظفر کی بھارتی افواج کے ہاتھوں ہاتھوں ماورائے عدالت شہادت نے پوری کشمیری قوم میں اک نئی جرات اور جذبہ پیدا کردیا اور دیکھتے ہی دیکھتے پوری قوم ہاتھوں میں پاکستانی پرچم لیے سڑکو ں پر آن موجود ہوئی اور آزادی کے حق میں بھارتی افواج کے خلاف نعرے لگانے شروع کردیے۔یہ صورتحال درندہ صفت بھارتی افواج کے لیے ناقابل برداشت تھی۔ انہوں نے ماضی کی روایات پر عمل کرتے ہوئے مظاہرین پر اپنی گنوں کے منہ کھول دیے، درندگی اور سفاکیت کی انتہا کا مظاہرہ کرتے ہوئے بھارتی افواج نے برہان مظفر وانی شہید کی شہادت پر احتجاج کرنے والوں پر پیلٹس گنوں سے فائرنگ شروع کردی اور ہزاروں کشمیری بچوں، نوجوانوں، بوڑھوں اور عورتوں کے جسموں کو چھلنی چھلنی کردیا ۔ ایک سو سے زائد شہید ہوگئے۔ مگر یہ زخم اور شہادتیں کشمیریوں آزادی کی مانگ سے روک نہ سکیں بلکہ کشمیری ہر شہادت کے بعد پہلے سے بھی زیادہ آب و تاب کے ساتھ سڑکوں پر موجود ہوتے اور پاکستان کا پرچم لہراتے ہوئے بھارتی افواج کی گولیوں اور پیلٹس کے مقابلے میں پتھروں کے ساتھ ڈٹے رہے۔ ظالم و قابض بھارتی فوج نے اس صورتحال پر قابو پانے کے لیے وادی میں تاریخ کا لمبا ترین کرفیو نافذ کردیا اور انٹرنیٹ تک کو بند کردیا۔ مگر کشمیری آج بھی جوش اور جذبے کے ساتھ بھارتی افواج کے مقابلے پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ اور تحریک آزادی جموں و کشمیر آج جس انتہا اور عروج پر پہنچ چکی ہےخود بھارت کے اندر سے آوازیں اٹھنا شروع ہوگئیں ہیں کہ کشمیر بھارت کے ہاتھ سے پھسلتا جا رہا ہے۔ آج برہان وانی کی شہادت کو ایک سال پورا ہو رہا ہے اور اس کے ساتھ ہی کشمیریوں کی تحریک انتفاضہ کا بھی ایک سال مکمل ہو رہا ہے اور کشمیر کی کیفیت یہ ہے کہ اسکول ،کالجز اور یونیورسٹیز کےطلبا و طالبات ہاتھوں میں پاکستانی پرچم اور پتھر لیے سارا سارا دن بھارتی فوج پر پتھراؤ کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ بھارتی مسلح افواج کے سربراہ جنرل بپن راوت کو کشمیری نوجوانوں سے درخوست کرنا پڑی کہ کشمیری نوجوان پاکستان کا پرچم اٹھانا بند کردیں ۔برہان وانی کی شہادت پر پاکستان کے وزیر اعظم میاں نواز شریف نے اقوام متحدہ میں کھڑے ہوکر برہان کو آزادی کا ہیرو کہا تھا جس سے کشمیری قوم کو بہت حوصلہ ملا۔ آج وزیر اعظم پاکستان کے ہیرو برہان مظفر وانی کی شہادت کو ایک سال مکمل ہو رہا تو پاکستان کو دیکھنا چاہیے کہ کشمیری تو آج بھی ڈٹے ہوئے اور پاکستان کی محبت اور پاکستانی پرچم اٹھانے کی پاداش میں اپنے پیاروں کی لاشوں کو اٹھانا پڑتا ہے مگر آج کشمیریوں کا وکیل پاکستان کہاں کھڑا ہے۔ پاکستان کی انتظامیہ کو چاہیے کہ برہان مظفر وانی کی شہادت کے ایک سال پورا ہونے اور کشمیر کی آزادی کی تحریک میں حالیہ عروج کو سپورٹ کرنے کے لیے پورے ملک میں ہفتہ کشمیر منایا جائے اور پورے ملک میں پروگرامز، ریلیاں اور تقریبات وغیرہ منعقد کی جائیں اور اس کے ساتھ ساتھ اقوام عالم میں کشمیر کے مقدمے کو زبردست انداز میں پیش کرکے بھارتی افواج کے مظالم کو اقوام عالم کے سامنے پیش کیا جائے اور کشمیر کی آزادی کی تحریک کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے حتی المقدور کوشش کی جائے۔ 7885196@gmail.com 03346419973

منگل, جون 13, 2017

'پاکستان میں انصاف کی حالت زار"

چوڑی فلاسفی پیش نہیں کروں گا، وطن عزیز مین انصاف کی حالت زار دیکھتے ہوئے دل خون کے آنسو روتا ہے جس میں طاقت والے اگرچہ وہ ظالم و قاتل ہی کیوں نہ ہوں ان کو باعزت بری اور مظلوم اور غریب کو اگرچہ وہ بے گناہ و بے قصور ہی کیوں نہ ہوں ان کو سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا جاتا ہے آج آپ کے سامنے چند ایسے کردار رکھوں گا جن کو آپ لوگ احسن انداز میں جانتے ہیں 1- پاکستان کے سابق مشیر پٹرولیم جو 479 ارب روپے کی کرپشن مین ملوث تھے سندھ رینجر اور سیکیورٹی اداروں نے جانوں پر کھیل کر ان کے خلاف ثبوت متعلقہ اداروں کو دیے مگر حضرت 50 لاکھ کے مچلکے جمع کروا کر ضمانت حاصل کی اور انصاف کو ٹھینگا دکھاتے ہوئے گھر کو رواں دواں۔ ۔ ۔ 2- اوگرا کے سابق چئیرمین جو82 ارب لوٹ کر بیرون ملک فرار ہوگئے تھے جن کی گرفتاری دبئی سے عمل میں لائی گئی مگر یہ حضرت بھی اڈیالہ جیل سے فقط 10 ،10 لاکھ کے دو مچلکے جمع کروا کر انصاف کا کباڑہ کرتے ہوئے سوئے لاہور روانہ ہوئے ۔ ۔ ۔ ۔ 3- تیسرا بڑا نام ان حضرت کا ہے جنہوں نے اللہ کے مہمانوں حاجیوں تک کو بھی بخشا جی ہاں میری مراد سابق وزیر حامد سعید کاظمی صاحب جو حج کرپشن کیس میں بڑی دھوم دھام سے گرفتار کیے گئے تھے مگر بعد ازاں حسب روایت انصاف و قانون کو گولی کرواتے ہوئے باعزت بری ہوگئے ۔ ۔ ۔ ۔ 4- سندھ دھرتی کے سپوت جناب شرجیل میمن صاحب جن پر 5 ارب 76 کروڑ روپے کی کرپشن ثابت ہوئی اور ان کو پاکستان آمد پر گرفتار کیا گیا مگر کچھ پردہ نشینوں کے نام سامنے آنے اور کرپشن کے مزید کیسز کھلنے کے خوف سے کچھ ڈوریاں چیک چینل ڈپلومیسی کے تحت ہلیں اور جناب شرجیل میمن صاحب باعزت بری۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 5- رینٹل پاور کی مد میں قومی حزانے کو اربوں روپے کا چونا لگانے والے جناب راجہ رینٹل پرویز اشرف صاحب جن کو باقاعدہ ملزم قرار دیا گیا مگر وہ آزادانہ گھومتے پھرتے رہے اور ان کی تفتیش کرنے والا آفیسر اپنے گھر میں مردہ حالت میں پایا گیا جس کی تاحال تفتیش نہیں ہوسکی ۔ ۔ 6- اسی طرح کچھ دن پہلے کی رپورٹ آپ لوگوں کو یاد ہوگی کہ پاکستان میں احتساب کے قومی ادارے (نیب) نے اربوں روپے کی مبینہ کرپشن کے ڈیڑھ سو بڑے مقدمات کی رپورٹ ملکی سپریم کورٹ میں جمع کرا دی ہے۔ رپورٹ کے مطابق وزیراعظم نواز شریف، ان کے بھائی وزیراعلٰی پنجاب شہباز شریف، وزیر خزانہ اسحاق ڈار اور سابق وزرائے اعظم راجہ پرویز اشرف، چوہدری شجاعت، سابق وزیر اعلٰی پنجاب چوہدری پرویز الٰہی، سابق وزیر اعلٰی بلوچستان اسلم رئیسانی، سابق وفاقی وزراء آفتاب شیر پاؤ اور فردوس عاشق اعوان کے علاوہ دیگر سیاستدانوں اور بیوروکریٹس کے خلاف مالی بد عنوانی اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے مقدمے زیر تفتیش ہیں۔ قارئین یہ تو صرف کرپشن کے چند کیسز تھے کہ جن میں قومی حزانے سے اربوں نہیں کھربوں کی خرد برد کی گئی مگر یہ کرپشن کے مہا بچاری آج بھی آزاد ہین اور اقتدار کے مزے لوٹ رہے ہیں ان کے علاوہ بہت سارے کیسز کرپشن کے ہیں اسی طرح اگر دیکھا جائے تو دہشت گردی، امن عامہ کو نقص پہنچانے والے اور اس سے بھی بڑھ قومی سلامتی تک بیچ جانے والی کتنی مقدس گائیں ایسئ ہیں جن کو کوئی ہاتھ بھی نہیں لگا سکتا، میمو گیٹ اسکینڈل کس کو یاد نہیں ہوگا، ایبٹ آباد کمیشن کی رپورٹ کیوں منظرعام پر نہیں آتی، حسین حقانی کی وفاداریاں کس کو یاد نہیں مگر سبھی آزاد ہیں سبھی پگڑیاں سروں پر ہیں۔ اسی طرح سے حالیہ لیک ہونے والی خطرناک رپورٹ کے سارے پاکستانیوں کا مکمل ڈیٹا امریکہ کی ایجنسیوں کو بیچا گیا مگر کوئی اس پر بولنے والا نہیں کیونکہ ان سارے معاملات سے کونسا پاکستان، عوام پاکستان، قومی سلامتی، ملکی عزت کو خطرہ ہے اس لیے سبھی آزاد اور شتر بے مہار ہیں ہاں اگر پاکستانی معاشرے کو خطرہ ہے تو حافظ سعید سے، ملکی مفادات کو آنچ آتی ہے تو حافظ سعید کی آواز سے ہمارے دوست ناراض ہوتے ہیں تو حافظ سعید کی نقل و حمل سے اس لیے حافظ سعید کو پکڑو اس کو قید کردو اور اگر کوئی پوچھے بھئی اس کا جرم کیا ہے تو بتلا دو کہ اس سے معاشرے کو خطرہ ہے۔ قارئین آیے ذرا دیکھتے ہیں کہ حافظ سعید سے ہمارے معاشرے کو کیا خطرہ ہے؟ تھرپارکر جہاں بھوک اور موت رقص کرتی تھی آج وہاں مسکراہٹیں اور ہریالی ہے تو حافظ سعید کی وجہ سے۔ ۔ بلوچستان جہاں پاکستان کا نام لینا جرم تھا اور شناختی کارڈ دیکھ کر قتل و غارت ہوتی تھی آج وہاں پاکستان کا لہراتا پرچم ہے تو حافظ سعید کی وجہ سے۔ ۔ ۔ سیلابوں ، زلزلوں، طوفانوں میں ملک و قوم کو اگر سہارا دیتا ہے تو حافظ سعید۔ ۔ ۔ ۔ ضرب عضب آپریشن میں جب فوج پر فتوؤں کی بارش ہو رہی تھی تو قوم اور سرکردہ مذہبی اور سیاسی جماعتوں کو فوج کے پشتیبان بنا کر کھڑا کرتا ہے تو حافظ سعید۔ ۔ ۔ پاکستان میں کہیں آگ لگ جائے، حادثہ ہو جائے یا کوئی بھی مسئلہ بن جائے تو مدد اور ریسکیو کے لیے سب سے پہلے پہنچنے والے کارکن حافظ سعید کے ۔ ۔ ۔ پاکستان ہی کیا اسلامی دنیا کی سب سے بڑی فلاحی اور ریسکیو کی تنظیم حافظ سعید کی ۔ ۔ ۔ برما ، صومالیہ، فلسطین، انڈونیشیا، افغانستان، کشمیر، شام اور دنیا میں بسنے والے دیگر مظلوم مسلمانوں کی اگر کوئی مدد کرتا ہے تو وہ حافظ سعید ۔ ۔ ۔ امت مسلمہ کے مظلموم مسلمانون کا واحد وکیل ہے تو حافظ سعید ۔ ۔ ۔ کشمیریوں کی ترجمانی کرتی مضبوط اور توانا آواز ہے تو حافظ سعید ۔ ۔ ۔ فتنوں اور آزمائشوں کے دور میں بھی نظریہ پاکستان ہی بقائے پاکستان کا نعرہ اور سبز ہلالی پرچم اٹھا کر جو قوم کا مورال بلند کرتا تو حاٖفظ سعید۔ ۔ ۔ میں حافظ سعید کا کون کونسا جرم بیان کروں جس کی وجہ سے اس کی غیر قانونی اور بلاوجہ کی نظربندی ختم ہونے کا نام نہیں لیتی اور حکومتی وکلاء عدالت میں فقط حیلوں بہانوں سے ڈنگ ٹپا رہے ہیں ۔ ۔ ۔ میں یہ سب دیکھتا ہوں تو دل سے یہی آہ نکلتی ہے کہ آخر کب تک ہم پاکستانی اپنے محسنوں سے ایسا ہی سلوک کرتے رہیں گے ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟ 03346419973 7885196@gmail.com

ہفتہ, مئی 27, 2017

"بجٹ کا منجن اور ایک ہولناک انکشاف"

مجھے نہیں پتا اس بجٹ میں کیا سستا ہوا اور کیا مہنگا ہوا، یہ بجٹ عوام دوست ہے یا عوام دشمن، اس سے کسانوں اور مزدوروں کے گھر کا جلتا چولہا بھی بجھ جائے گا یا صنعت کار یا سرمایہ دار مزید آف شور کمپنیوں کے مالک بنیں گے اور پاکستانیوں کا پیسا سوئس بینکوں کی نذر ہوجائے گا مجھے تو بجٹ نشریات نے یہ بتایا کہ "شریفوں" کی حکومت کی نام نہاد "ترقی" نے ہر پاکستانی کو مقروض بنا دیا ہے( چاہے اس بے چارے نے قرضہ لیا ہو یا نہ)۔ یہ وہ قرضے ہیں جو ہماری حکومتیں ہمارے نام پر بیرونی دنیا سے لیتی رہی ہیں اور سر دست میں یہ تذکرہ بھی نہیں کروں گا یہی وہ قرضے ہیں جن کو لینے کی شرائط بعض اوقات اتنی کڑی ہوتی ہیں کہ ہمیں وسیع تر ملکی و قومی مفاد (یہاں پر ملک و قوم سے مراد صرف حکمرانوں کے خانوادے ہیں) کی خاطر ملکی سلامتی اور بہت کچھ کو پس پشت ڈال کر یہ قرضے حاصل کرنے پڑتے ہیں۔ کل کراچی میں تھت تو میڈیا مانیٹرنگ ٹیم کے سلیم بھائی کے کہنے پر ان کے آفس میں چلے گئے جہاں پر بیسیوں نیوز چینلز پر بجٹ پربڑے زور و شور سے بحث و تمحیص جاری و ساری تھی ( چلو اسی بہانے حکومتی ٹولے، اپوزیشن اور ان نیوز چینلز اور ان سے وابستہ لوگوں کی بھی کچھ دن تو دال روٹی چلتی رہے گی اس بجٹ کے منجن کو بیچ کر) میری طرح وہ لوگ بھی بجٹ پر تقریریں اور بحث کر رہے تھے شاید جن کو بجٹ کے سپیلنگز بھی یاد نہ ہوں وہیں پر بجٹ نشریات کے دوران یہ ہولناک انکشاف بھی ہوا کہ ہمارے حکمرانوں کے بیرونی دنیا سے قرضے لینے کی عادت نے ہر پاکستانی کو تقریباً ایک لاکھ بیس ہزار کا مقروض بنا دیا ہے۔ اوہ بےچاعے پاکستانیوں تمہیں شاید پتا نہ ہو کہ قرض تو شہید کو بھی معاف نہیں ہے تو ہم تو ویسے بھی بہت گناہ گار ہیں تو اب تیرا کیا ہوگا پاکستانی؟؟؟؟؟

جمعہ, مئی 5, 2017

کشمیری طلباء و طالبات کی تحریک مزاحمت کا نیا آغاز "تحریک انتفاضہ"

یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ قومو ں کو آزادیاں حاصل کرنے کے لئے آگ اور خون کے دریاؤں کو عبور کرنا پڑتا ہے، آزادی کی صبح روشن دیکھنے کے لیے کتنی تاریک اور غمزدہ راتوں کو اپنی آنکھوں پر جھیلنا پڑتا ہے، اس نعمت آزادی سے فیضیاب ہونے کے لیے کتنے بوڑھے باپوں کو اپنے جواں سال بیٹوں کو میتوں کی اپنے ناتواں کندھوں پر اٹھانا پڑتا ہے، کتنی ماؤں کو اپنے بیٹوں کے سر سہرے سے سجنے کی بجائے کفن میں میں لپٹے دیکھنے پڑتے ہیں تب جاکر آزادیوں کا سورج غلامیوں کے گٹاٹوپ اندھیروں کو چیرتا ہوا طلوع ہوتا ہے۔ اس چشم فلک نے سینکڑوں قوموں کو اپنی آزادی کی جنگ لڑتے اور لہو بہاتے دیکھا ہوگا مگر آفرین ہے اس خرماں نصیب کشمیری قوم کے لیے کہ جو کئی دہائیوں سے ظلم کی چکی میں پس رہے ہیں اور اپنی آزادی کی خاطر قربانیاں دے رہے ہیں۔ مگر سلام ہے ان کے جذبہ حریت کو وہ سالہا سال کی سربریت کی داستانوں کے باوجود بھی اپنی آزادی کے مطالبے سے ایک انچ بھی پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ہیں۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ اور ہر بڑھتے ظلم کے ساتھ ان کے مطالبہ آزادی میں شدت ہی آرہی ہے کوئی ذرا سی کمی بھی دیکھنے کو نہیں ملتی۔ بھارت کی ظالم افواج کے ہر ہر ظلم و ستم کے جواب میں کشمیریوں کا فقط ایک ہی نعرہ ہے وہ ہے ہم کیا چاہتے .....آزادی۔ یوں تو بھارتی افواج قیام پاکستان سے ہی جموں و کشمیر کی وادی میں سربریت کا کھیل کھیل رہی ہیں مگر ہر طرح کے ظلم روا رکھنے کے باوجود بھی وہ کشمیریوں کے جذبہ حریت کو کچلنے میں ناکام رہی ہیں اور آزادی کی تحریک پہلے سے زیادہ آب و تاب سے سامنے آتی رہی ہے مگر گزشتہ سال جولائی میں بطل حریت برہان وانی شہید کی بھارتی درندہ صفت افواج کے ہاتھوں شہادت کے بعد سے جیسے جیسے بھارتی افواج کے مظالم میں اضافہ ہوتا چلا گیا ویسے ویسے کشمیریوں کی آ زادی کی تحریک میں تیزی آتی چلی گئی۔ مگر تحریک میں اب یہ تیزی فقط آزادی کے مطالبوں، جلسے ،جلوسوں اور نعروں تک محدود نہ تھی بلکہ اب کی بار بچے،بوڑھے،جوان، وعورتیں اور ہر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد سب کچھ چھوڑ کربھارتی افواج کی بکتر بند گاڑیوں اور گنوں کے مقابلے میں ہاتھوں میں پتھر لیے سڑکوں پر موجود تھے اب کی بار ابابیلوں نے ہاتھیوں سے ٹکرانے کا فیصلہ کر لیا تھا اور پھر چشم فلک نے بھی یہ عجیب منظر دیکھا کہ جدید ترین گنوں سے لیس پتھر والوں کے سامنے بھاگ رہے تھے۔ وقت کے ابرہہ کے منہ زور ہاتھی ابابیلوں کے کنکروں کے سامنے ٹھہر نہ سکے تو تاریخ کا بدترین اور لمبا ترین کرفیو وادی میں نافذ کردیا مگر لا الہ الا اللہ کے ماننے والے بھلا ایسی ہابندیوں کو کب خاطر میں لاتے ہیں نتیجہ یہ نکلا کہ کشمیریوں کی آزادی کی تحریک "تحریک انتفاضہ" میں بدل چکی تھی۔ چھوٹے چھوٹے بچے اپنے اسکول بیگز میں بجائے کتابوں کے پتھر جمع کرکے لے جارہے ہوتے ہیں اور جہاں بھارتی افواج کی کوئی ٹولی نظر آتی ہے ادھر ہی یہ ننھے منھے سنگ باز پتھراؤ شروع کردیتے ہیں اوران کے لبوں پر یہ الفاظ ہوتے ہیں بھارتی فوج کی ٹولیوں سے لڑو ہو لہو تن میں تو گولیوں سے لڑو کچھ نہیں ہے تو سنگ باری رہے جنگ جاری رہے جنگ جاری رہے برہان وانی کی شہادت کے بعد بھارت نے اپنے تئیں ہر کوشش کر کے دیکھ لی کہ کسی بھی طریقہ سے کشمیریوں کے اس جذبہ حریت اور بھارتی افواج سے نفرت اور انتقام کو ختم کرسکے اور نہیں تو اس کو اقوام عالم کے سامنے واضح ہونے سے روک سکے۔ اس مقصد کے لیے کرفیو کا نفاذ، میڈیا کی بندش، انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کی بندش غرض کہ ہر ہر حربہ استعمال کیا گیا مگر کشمیریوں نے بھارت سے نفرت اور آزادی کی لگن اور تڑپ کا پیغام ہر طرف پہنچاکر بھارت کی ناک میں دم کیا۔ اس کے لیے کشمیریوں نے بھارتی کرنسی اور اپنے سیبوں پر بھارت سے نفرت اور آزادی کے نعرے لکھ کر پوری دنیا میں اپنا پیغام دیا کہ کشمیری صرف آزادی چاہتے ہیں۔ برہان وانی کی شہادت سے شروع ہونے والی سنگبازی کی تحریک اب تحریک انتفاضہ میں بدل چکی ہے جس کی بھاگ دوڑ اب کشمیری طلبا ء و طالبات کے ہاتھوں میں ہے۔ ان میں اسکول کے ننھے منھے طلباء سے لے کر یونیورسٹی کے پوسٹ گریجوایٹ طلباء و طالبات بھی شامل ہیں۔ یہ وہ طلباء و طالبات ہیں جن میں سے کسی کا بھائی شہید ہے تو کسی کا باپ، کسی کی ماں بھارتی دکھوں کی ماری ہے تو کسی کی بہن لاپتہ اسی وجہ سے ان کشمیری طلباء کے طلباء کے دلوں میں بھارتی افواج کے لیے نفرت اور انتقام کا اک لاوہ ہے جو پھٹ رہا ہے اور اک سیل رواں ہے جو بھارت کے سبھی مظالم کو ان شاءاللہ بہا لے جائے گا۔ انٹرنیت اور سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی حالیہ ویڈیوز جنہوں نے پوری وادی کے ہر پیر و جواں کو بھارتی افواج کے سامنے سینہ سپر ہوکر کھڑا کر دیا ہے کہ جس میں کشمیر کی شہزادیاں اپنے اسکول اور کالج بیگ پہنے ہوئے ہاتھوں میں پتھر لیےبھارتی افواج کی بکتر بند گاڑیوں اور توپوں کے مقابلے میں ڈٹی ہوئی ہیں اور بزدل بھارتی فوجی ان کے سامنے بھاگ رہے ہیں۔ یہ کشمیر کی وہ عفت مآب بیٹیاں ہیں جو اپنے بھائیوں اور باپوں کی شہادتوں کے بعد بیرونی دنیا کے ابن قاسموں سے مایوس ہوکر خود میدان میں نکل آئی ہیں ۔ اس تحریک انتفاضہ کے روح رواں وہ طلباء ہیں جو ساری ساری رات پتھر جمع کرتے ہیں اور صبح ہوتے ہی اسکولوں ،کالجوں اور یونیورسٹیوں سے نکل کر کشمیر کی گلیوں اور کوچوں میں ظالم و جابر بھارتی افواج کے سامنے خم ٹھونک کر کھڑے ہوجاتے ہیں۔ گزشتہ دنوں ایسے ہی ایک مظاہرے کے بعد بھارتی فوج ایک کالج میں گھس گئی اور وہاں پر موجود پچاس کے قریب طلباء و طالبات کو زخمی کردیا۔ یہ خبر پوری وادی میں جنگل میں آگ کی طرح پھیل گئی اور آنا" فانا" وادی کے سبھی تعلیمی اداروں کے طلباء و طالبات ہاتھوں میں پتھر لیے اپنے زخمی بھائیوں اور بہنوں کا بدلہ لینے کے لیے سڑکوں پر آکر بھارتی افواج پر پتھراؤ شروع کر دیا۔ بھارتی سورماؤں نے اس صورتحال میں گھبرا کر اندھا دھند فائرنگ اور شیلنگ شروع کردی جس کے نتیجے میں سینکڑوں طلباء و طالبات زخمی ہوگئے اور کئی اپنی جان کی بازی ہار گئے ان ہی میں سے ایک کشمیر کا نوجوان صحافی بھی تھا۔ بھارتی افواج اس تحریک انتفاضہ کی وجہ سے زبردست دباؤ اور خوف کا شکار ہے۔ اسی گھبراہٹ اور خوف کی وجہ سے ان ظالم بھارتی درندوں نے ایساکام کیا کہ جس نے چنگیز اور ہلاکو خان کی یاد تازہ کردی کہ جو اپنے مخالفین کے سروں کے مینار بنایا کرتے تھے کچھ ایسا ہی کام بزدل بھارتی فوج نے سنگ بازی سے بچنے کے لیے ایک کشمیری نوجوان کو گرفتار کیا اور پھر اس کو اپنی فوجی جیپ کے بونٹ پر باندھ کر کئی دیہات کے چکر لگاتے رہے اور سنگبازوں پر خوف و حراس طاری کرنے کی کوشش کرتے رہے مگر اس واقعہ نے بھی کشمیریوں کے غم و غصہ اور جذبہ انتقام کو اور زیادہ ہوا دی اور کشمیری طلباء پہلے سے زیادہ بپھر کر بھارتی فوج پر حملے کر رہے ہیں ۔ یونیورسٹیز اور کالجز کی تعلیمی سرگرمیاں تعطل کا شکار ہیں ، امتخانات غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی ہوچکے ہیں ، طلباء و طالبات اپنے اپنے بیگز میں کتابوں کی بجائے پتھر لیے صبح اسکول، کالجز اور یونیورسٹیز میں جمع ہوتے ہیں اور اس کے بعد سارا دن بھارتی فوج کے ساتھ ان کی جھڑپیں چلتی رہتی ہیں ۔بہتا لہو، گرتی لاشیں، اٹھتے جنازے ان کے رستے کی رکاوٹ نہیں ہیں۔ اس سب کے باوجود ان کی زبانوں پر یہی نعرے ہیں ہم کیا چاہتے۔۔۔۔۔۔۔ آزادی تم کیسے نہ دوگے۔۔۔۔۔ آزادی ہم چھین کر لیں گے ۔۔۔۔آزادی پاکستان کا مطلب کیا ۔۔۔ لا الہ الا اللہ کشمیر بنے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔ پاکستان پیلٹس، ربڑ کی گولیوں، شیلنگ اور اندھا دھند فائرنگ کے مقابلے میں فقط پتھر لیے کشمیر کی یہ مٹھی بھر ابابیلیں ابرہہ(بھارت) کے لاکھوں ہاتھیوں(فوجوں) پر پھر بھی بھاری ہیں اور ان کی اس تحریک انتفاضہ سے بھارتی فوجوں کے حوصلے پست ہو رہے ہیں اور ان کے جرنیل کشمیر کے بھارت کے ہاتھوں سے پھسلنے کی باتیں کر رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر کثیر تعداد میں وائرل ہونے والی ویڈیوز دنیا کو مسلسل ورطہ حیرت میں ڈالے ہوئے ہیں کہ وہ کونسی چیز ہے جو ان کشمیری طلباء کو اپنے مستقبل، اپنے گھر ، اپنے ماں باپ سے بے نیاز کر کے ان کو برستی گولیوں کے سامنے سینہ چوڑا کرکے کھڑا کر رہی ہے، وہ کونسی وجہ ہے کہ جو گرتی لاش کی جگہ لینے کے لیے ہزاروں کو لاکھڑا کرتی ہے۔ وہ چیز وہ وجہ آزادی کی تڑپ، لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ کی ودیعت کردہ جرات اور جہادی جزبے ہیں جو ان کے سینوں میں موجزن ہیں اور ظالم بھارتی افواج سے نفرتوں کے سمندر ہیں جو ٹھاٹھیں مار رہے ہیں اور بھارتی افواج کو ان کے ظلم سمیت خس و خاشاک کی طرح بہا لے جانے کو بے تاب نظر آتے ہیں۔ دوسری کشمیر کی آزادی کے متوالے مجاہدین بھی مسلسل اپنے مورچوں پر ڈٹے ہوئے ہیں اور مسلسل اپنے جہادی معرکوں کے ساتھ سنگبازوں کا حوصلہ بڑھا رہے ہیں اور بھارتی افواج کے دلوں پر ہیبت طاری کررہے ہیں۔ پلوامہ، پامپور، اڑی اور دیگر علاقوں میں ہونے والے تازہ ترین جہادی معرکے اور ان معرکوں کے دوران پیش آنے والے حیرت انگیز واقعات کہ جب ایک طرف معرکہ چل رہا ہوتا ہے ، گولیوں کی بارش ہو رہی ہوتی ہے ،گرنیڈ پھٹ رہے ہوتے ہیں تو اسی موقع پر ہزاروں کشمیری نوجوان ، عورتیں اور بچے گھیرے میں آئے ہوئے مجاہدین کی مدد کو پہنچ جاتے ہیں اور مجاہدین کا گھیرا ؤ کرنے والی فوج پر پتھراؤ شروع کر دیتے ہیں جس سے مجاہدین کو موقع مل جاتا ہے اور وہ اپنے محفوظ ٹھکانوں کی طرف نکل جاتےہیں ، اسی طرح ہزاروں کشمیری نوجوان طلباء برہان وانی شہید کے نقش قدم پر چلتے ہوئے مجاہدین کی صفوں میں داخل ہوکر ظالم بھارتی افواج سے اپنے پیاروں کا بدلہ لینے کے لیے بے تاب بیٹھے ہیں ۔ تسلسل کے ساتھ پیش آنے والے یہ واقعات اس بات کا ثبوت ہیں کہ تحریک آزادی کشمیر اب اگلے اور فائنل مرحلے میں داخل ہوچکی ہے جس کا نام تحریک انتفاضہ ہے اور جس کا اختتام ان شاء اللہ کشمیر کی آزادی پر ہوگا اور اس کے ساتھ ہی اللہ کشمیر کے مظلوم و مقہور مسلمانوں کے سینوں کو ٹھنڈا کرے گا۔ اب ٹوٹ گریں گی زنجیریں اب زندانوں کی خیر نہیں جو دریا جھوم کے اتھے ہیں تنکوں سے نہ ٹالے جائیں گے کٹتے بھی چلو بڑھتے بھی چلو کہ بازو بھی بہت ہیں اور سر بھی بہت بڑھتے بھی چلو کہ اب ڈیرے منزل ہی پر ڈالے جائیں گے

منگل, مئی 2, 2017

"پاکستانی قوم کی حکمرانوں سے استدعا"

پانامہ لیکس اور نیوز لیکس کے مارے حکمرانو اس شخص کو کس جرم کی پاداش میں تم نے پس دیوار زنداں کردیا، اور کس برتے پر اس کی نظر بندی میں توسیع کرتے جارہے ہو، پاکستانی قوم کے دلوں کی دھڑکن حافظ سعید کا کوئی ایک جرم ، کوئی ایک گناہ تو بتا دو جس کے ناطے تم اس سے یہ سلوک کر رہے ہو سوائے اس کے کہ اس کے ڈر سے تمہارے یاروں مودیوں اور چنڈالوں کے پاجامے لیک ہو جاتے ہیں۔ میاں صاحب اس شخص کی قدر و قیمت مظلوم کشمیریوں سے پوچھو جن کی آواز یہ اکیلا شخص حافظ سعید تھا، کشمیری ماں آسیہ اندرابی کہتی ہے بھارت یکبارگی ہمارے لاکھوں کشمیریوں کو شہید کردے اس سے بھی بڑا غم ہمارے لیے یہ ہے کہ حافظ سعید کو قید کردیا جائے۔ اس شخص کی اہمیت بھارت کے طول و عرض میں بسنے والے مسلمانوں سے پوچھو جو کہتے ہیں کہ حافظ سعید ہمارے ہیرو اور ہمارے امیر ہیں۔ انڈونیشیا کے ساحلی علاقوں آچے وغیرہ میں پناہ گاہوں میں موجود برما کے مظلوم مسلمانوں سے پوچھو کہ حافظ سعید کس انسانی ہمدردی کا نام ہے، فلسطین کے کھنڈر گھروں میں سردی سے ٹھٹھرتے یتیم بچوں سے پوچھو کہ ان کی مصیبت کے دنوں میں ان کے سروں پر دست شفقت رکھنے والے ہاتھ حافظ سعید کے بیٹوں کے تھے۔ بلوچستان اور سندھ کے جن ناراض فراری سرداروں اور قوم پرست وڈیروں کی قومی دھارے میں شمولیت پر تم خوشی کے شادیانے بجاتے نہیں تھکتے اس کے پیچھے کردار اور محبتیں حافظ سعید کی ہیں۔ جب تھرپارکر میں بچے بھوک اور پیاس سے مر رہے تھے اور دوسری طرف تمہاری میزوں پر منوں کے حساب سے کھانا ضایع ہو رہا تھا تو کون تھا جو اپنا آرام اور سکون پس پشت ڈال کر تپتی ریت پر تھرپارکر میں راشن کے ٹرک لے کر کھڑا تھا۔ میں اللہ کے اس بندے کے پاکستان اور پاکستانی قوم پر کونسے کونسے احسان تمہیں یاد دلاؤں، مگر تمہارے ناعاقبت اندیش وزیروں کو حافظ سعید کی یہ خدمات معاشرے کے لیے خطرہ نظر آتی ہیں۔ ہم پاکستانی قوم تم سے فقط یہی بات کرتے ہیں کہ اس شخص کے معاملے میں اللہ سے ڈرو اور اس کے ساتھ انصاف کا معاملہ کرو۔ اللہ تمہارے معاملات کی اصلاح کرے۔

جمعہ, مارچ 17, 2017

"پاکستانی بچوں کا بیانیہ اور وزیر اعظم پاکستان کا بیانیہ"

آج میرپورخاص کے ایک علاقے کوٹ غلام محمد میں صبح ایک اسکول کے بچوں سے گپ شپ کا موقع ملا۔ جب میں اسکول میں داخل ہوا تو بچے اکھٹے ہو کر نعرے لگا رہے تھے پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ، نظریہ پاکستان ہی بقائے پاکستان ہے۔ یہ بچے جن کی عمریں بمشکل پانچ سات سال ہونگی وہ برے جوش اور ولولے کے ساتھ پاکستان کے نعرے لگارہے تھے، مجھے ان کے یہ جوش اور ولولے سع بھرپور نعرے سن کر ان کی ننھی منی عمریں دیکھ کر تحریک آزادی پاکستان کا وہ بچہ یاد آگیا کہ جو اپنے گاؤں والوں کے ساتھ محمد علی جناح کا استقبال کرنے کے لیے کھڑا تھا اور نعرہ لگا رہا تھا پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ، بن کے رہے گا پاکستان، بٹ کر رہے گا پاکستان۔ محمد علی جناح نے جب اس بچے کے جوش اور ولولے کو دیکھا تو اس کو اپنے پاس بلایا اور پوچھا بیٹا پاکستان جس کے بارے مین تم نعرے لگا رہے ہو اس کا پتا بھی ہے کہ وہ کیا چیز ہے تو اس ننھے منے بچے نے جواب دیا کہ جناب پاکستان کا مطلب تو آپ جیسے قائد جانتے ہونگے مجھے تو اتنا پتا ہے کہ جہاں پر مسلمانوں کی اکثریت ہے وہ پاکستان ہوگا۔ قیام پاکستان کے وقت یہ جذبے اور یہ نعرے تھے جو بچوں سے لے کر بوڑھوں تلک پوری قوم مسلم کے رگ و پہ میں موجزن تھے اور انہی جزبوں کی بدولت جہد مسلسل کے نتیجے میں یہ وطن عزیز پاکستان دنیا کے نقشے پر دل کفر میں ایک خنجر بن کر پیوست ہوا۔ مگر بعد مین یہ نظریہ پاکستان(دو قومی نطریہ) دانستہ طور پر تاریخ کی بھول بھلیوں میں گم کردیا گیا جس کا نتیجہ ہمیں پاکستان کے دو لخت ہونے کی شکل مین بھگتنا پڑا مگر ہمیں سمجھ پھر بھی نہیں اور ہم بجائے اس نظریہ پاکستان کو اپنانے کے ہم بھارت کی دوستی اور تجارت کے گن گانے لگے، لا الہ الا اللہ کی بنیاد پر بننے والے پاکستان کے عزت مآب وزیراعظم برملا یہ اعلان کر رہے ہیں کہ مجھے بھارت کے ساتھ دوستی کا مینڈیٹ ملا ہے۔ افسوس صد افسوس کے میر کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا، یہ وہی بھارت ہے جو قیام پاکستان کے وقت سولہ لاکھ مسلمانوں کا قاتل ہے، یہ وہی ہندو بھیڑیا ہے جو قیام پاکستان کے وقت سے لے کر اب تک لاکھوں کشمیریوں کو شہید کرکے ان کی لاشوں پر کھڑا دانتوں کو نکوس رہا ہے، وزیراعظم صاحب شاید آپ کو یاد ہوکر جس مودی کو آپ بنا ویزے کے اپنے ملک پاکستان میں بلاتے ہیں اور اس کی دوستی کا دم بھرتے ہیں یہ وہی ہے جو گجرات کے قصاب کے نام سے جانا جاتا ہے، جو مسلمانوں کی صد سو سالہ شان و شوکت کی مظہر بابری مسجد کو شہید کرنے والا، گجرات اور آسام میں مسلمانوں کو زندہ جلانے ولا، اور ڈھاکہ میں یونیورسٹی میں کھڑا ہوکر پاکستان کو دو لخت کرنے میں اپنے کردار کا اعتراف گناہ کر رہا تھا۔ وزیر اعظم صاحب آپ شاید بھول سکتے ہیں ان لاکھوں شہداء کو جو اس نظریہ پاکستان اور لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کی خاطر کٹ گئے اور آپ نے بڑے آرام سے کہہ دیا کہ رنگ ایک نسل ایک تو درمیان میں یہ لکیر کیوں مگر ہم ان شہیدوں کے لہو سے غداری نہیں کر سکتے، ہندو بنیا کل بھی ہمرا دشمن تھا اور آج بھی ہے۔ اس کے ساتھ ہمارا ناطہ نفرت اور انتقام کا ہے۔ مسلم لیگ کے سربراہ اور پاکستان کے سب بڑے عہددار صاحب آپ سے اچھے تو چار پانچ سال کے یہ بچے ہیں جو آج بھی اسی نظریے پر کھڑے ہیں جس پر بانی پاکستان محمد علی جناح اور ان کی مسلم لیگ کھڑی تھی۔ آپ سوچیں کہ کل قیامت کو یہ بچے تو نظریہ پاکستان اور لا الہ الا اللہ کی بدولت اپنے قائد کے ساتھ کھڑے ہونگے مگر آپ کس کے ساتھ کھڑے ہونگے۔ آج آپ پاکستان کے بیانیے کو تبدیل کرنے کے چکروں میں پرے ہوئے ہیں مگر یاد رکھیے گا پاکستان کا بیانیہ کل بھی لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ تھا اور آج بھی یہی ہے۔ میں سلام پیش کرتا ہوں ان کی بچوں کی تربیت کرنے والے ان کے اساتذہ اور انکے تعلیمی ادارے کو جو ان بچوں کی تربیت نظریہ پاکستان پر کرہے ہیں کل کو یہی چراغ جلیں گے تو روشنی ہوگی۔